بلوچستان میں بریسٹ کینسر تیزی سے پھیلنے لگا، ایک سال میں 5 ہزار کیسز سامنے آنے کی وجہ آخر کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں ہر سال قریباً 20 سے 22 ہزار کینسر کے نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔
ان کیسز میں بریسٹ کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ایک سال کے دوران چھاتی کے سرتان کے 5 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 60 سے 70 فیصد مریض علاج کے لیے اس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب بیماری چوتھے اور خطرناک اسٹیج میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بروقت تشخیص اور درست علاج سے بریسٹ کینسر سے بچاؤ کی شرح 90 فیصد سے زائد ہے، آصفہ بھٹو زرداری
سینار کینسر اسپتال کوئٹہ میں کینسر کی ماہر (آنکالوجسٹ) ڈاکٹر ماہ جبین مری کے مطابق صوبے میں بریسٹ کینسر کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے نمایاں عوامی سطح پر آگاہی کی کمی اور طرزِ زندگی کی خرابی ہے۔
’فیملی پلاننگ کی گولیاں اور ہارمونل تبدیلیاں خواتین کے جسم پر اثر ڈالتی ہیں‘ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلا عنصر ہمارا لائف اسٹائل ہے، ہم ورزش نہیں کرتے، سارا دن بیٹھے رہتے ہیں، فیملی پلاننگ کی گولیاں اور ہارمونل تبدیلیاں بھی خواتین کے جسم پر اثر ڈالتی ہیں۔ یہ تمام عوامل بریسٹ کینسر کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ پہلے بھی خواتین کینسر کا شکار ہورہی تھیں مگر اب چیک اپ کے لیے زیادہ تعداد میں آرہی ہیں، کیونکہ آگاہی مہم کے بعد لوگ یہ جان گئے ہیں کہ جسم میں کوئی معمولی سی بھی تبدیلی ظاہر تو ٹیسٹ کرانا چاہیے۔
ان کے بقول پہلے لوگ یہ معاملہ چھپاتے تھے، مگر اب وہ خود اسپتال آ کر چیک اپ کرواتے ہیں، یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔
ڈاکٹر ماہ جبین نے عوام میں پائی جانے والی ایک بڑی غلط فہمی کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بائیوپسی کرانے سے بیماری پھیل جاتی ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
’بائیوپسی سے ہی پتا چلتا ہے کہ بیماری کس درجے پر ہے‘’بائیوپسی سے ہی پتا چلتا ہے کہ بیماری کس درجے پر ہے، اور اگر تشخیص نہ ہو تو علاج ممکن نہیں، جبکہ تاخیر بیماری کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ کینسر کے 4 درجے ہوتے ہیں، اگر مریض پہلے یا دوسرے درجے میں ہمارے پاس آ جائے تو 90 فیصد تک مکمل علاج ممکن ہوتا ہے لیکن چوتھے اور آخری درجے پر بیماری بہت پھیل چکی ہوتی ہے اور علاج صرف زندگی کو آسان بنانے کے لیے ہوتا ہے، بڑھانے کے لیے نہیں۔
کوئٹہ کی ممتاز ماہرِ طب پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ حسن کے مطابق زیادہ تر خواتین اپنے جسم کو ٹھیک سے پہچانتی نہیں۔ ہمیں لڑکیوں کو کم عمری سے یہ سکھانا چاہیے کہ بریسٹ میں کوئی بھی تبدیلی نارمل نہیں ہوتی۔ کسی بھی عمر میں اگر کوئی گلٹی یا سوجن ظاہر ہو تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔
’80 فیصد کیسز میں گلٹی کینسر نہیں ہوتی‘ڈاکٹر عرفانہ کے مطابق 80 فیصد کیسز میں گلٹی کینسر نہیں ہوتی لیکن چونکہ خواتین دیر کر دیتی ہیں، اس لیے جب وہ اسپتال پہنچتی ہیں تو مرض خطرناک حد تک بڑھ چکا ہوتا ہے۔ خواتین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شرم یا خوف زندگی سے قیمتی نہیں۔ اگر کوئی تبدیلی محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سینار اسپتال میں حال ہی میں موبائل میموگرافی ٹرک متعارف کرایا گیا ہے جو بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جا کر خواتین کی اسکریننگ کرے گا۔ پہلے خواتین کو صرف ایک میموگرافی ٹیسٹ کے لیے کراچی یا لاہور جانا پڑتا تھا، اب وہی سہولت صوبے کے اندر دستیاب ہے۔
’یہ بلوچستان کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے تاکہ کوئی بھی عورت لاعلمی کے باعث زندگی نہ ہارے۔‘
کوئٹہ کے کنسلٹنٹ ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر فیروز خان اچکزئی کے مطابق بلوچستان میں سالانہ رپورٹ ہونے والے 22 ہزار کیسز میں سے 4 سے 5 ہزار صرف بریسٹ کینسر کے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے 60 سے 70 فیصد خواتین اسٹیج فور پر اسپتال آتی ہیں جب بیماری جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل چکی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس تاخیر کی سب سے بڑی وجوہات آگاہی کی کمی، دیہی علاقوں میں سہولیات کا فقدان اور گھریلو علاج پر انحصار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 21 اسپتالوں کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ بلوچستان میں خواتین میں کینسر کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کے لیے اپنے مسائل بیان کرنا یا جسمانی تبدیلیوں پر بات کرنا آسان نہیں۔
’اکثر خواتین گھر میں بات نہیں کرتیں اور خاموشی اختیار کر لیتی ہیں‘ڈاکٹر ماہ جبین کے بقول اکثر خواتین گھر میں بات نہیں کرتیں اور خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ جب بیماری ناقابلِ علاج مرحلے میں پہنچتی ہے تو تب گھر والے انہیں اسپتال لاتے ہیں، اگر یہی قدم پہلے اٹھا لیا جائے تو علاج ممکن ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ 40 سال سے زیادہ عمر کی ہر عورت کو ہر 3 سال بعد میموگرافی کرانی چاہیے اور اگر خاندان میں والدہ، نانی یا بہن کو کینسر ہو چکا ہو تو ہر سال اسکریننگ لازمی ہے۔ جتنی جلدی بیماری پکڑی جائے اتنا بہتر علاج ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ کی ویکسین تیار، کیا اس کینسر کی شرح میں کمی ممکن ہے؟
ڈاکٹر عرفانہ حسن نے کہاکہ یہ پیغام صرف ان کے لیے نہیں جنہیں کینسر ہے بلکہ ہر عورت کے لیے ہے کہ وہ اپنی بہن، بیٹی یا دوست تک یہ بات پہنچائے کہ بریسٹ کینسر کا اگر وقت پر معلوم ہوجائے تو یہ مکمل طور پر قابلِ علاج ہے۔
انہوں نے کہاکہ خواتین کینسر سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کا مقابلہ کریں۔ علم، آگاہی اور بروقت علاج ہی بقا کی ضمانت ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسپتال بریسٹ کینسر بلوچستان پاکستان اٹامک انرجی کمیشن تشخیص وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپتال بریسٹ کینسر بلوچستان پاکستان اٹامک انرجی کمیشن وی نیوز میں بریسٹ کینسر بلوچستان میں خواتین کی علاج ممکن کینسر کی کیسز میں کے مطابق انہوں نے نے کہاکہ کینسر کے ہوتا ہے کے لیے کی شرح
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :