کوہستان کے 40 ارب روپے کرپشن اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
کوہستان کے 40 ارب روپے کرپشن اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ گرفتار WhatsAppFacebookTwitter 0 19 October, 2025 سب نیوز
پشاور:(آئی پی ایس ) قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے ملک کے سب سے بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں سے ایک، کوہستان 40 ارب روپے کرپشن کیس کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کو اہلیہ سمیت گرفتار کر لی جبکہ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں بعض بااثر اور اہم شخصیات کی گرفتاریوں کا امکان ہے۔
ملزم کے گھر سے سونا، غیر ملکی کرنسی، قیمتی گاڑیاں، جائیدادوں کے اصل کاغذات اور چیکس کے ریکارڈ برآمد، نیٹ ورک محکمانہ افسران سے بھی اوپر تک پھیلا، سینئر افسران کی ملی بھگت سے کئی سال تک چلتا رہا۔
نیب حکام کے مطابق ملزم قیصر اور ان کی اہلیہ کو ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس سے ڈسچارج ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ ملزمان پر 40 ارب روپے سے زائد عوامی فنڈز کے غبن کا الزام ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق کوہستان کرپشن کیس میں سرکاری خزانے کے اکاؤنٹ G-10113 سے غیر قانونی طور پر اربوں روپے نکلوائے گئے۔ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) ڈیپارٹمنٹ، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس، اے جی آفس اور نیشنل بینک آف پاکستان کے افسران و اہلکاروں نے اپر کوہستان کے کنٹریکٹرز اور نجی افراد کے ساتھ ملی بھگت سے سرکاری منصوبوں کے لیے مختص رقوم کو خرد برد کیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جعلی بل، فرضی شیڈولز اور بوگس چیک تیار کرکے سرکاری خزانے سے اربوں روپے نکلوائے گئے۔ نیب نے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جن میں سرکاری ملازمین، بینکرز اور کنٹریکٹرز شامل ہیں، جبکہ سونا، غیر ملکی کرنسی، نقد رقم، قیمتی گاڑیاں اور اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں برآمد کی گئی ہیں۔
نیب کے مطابق قیصر اقبال جو کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) ڈپارٹمنٹ اپر کوہستان میں کلرک اور بعد ازاں ہیڈ کلرک کے عہدے پر تعینات رہا، اس اسکینڈل کا مرکزی کردار اور ماسٹر مائنڈ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا حکومت کی افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق وفاق کو تجاویز خیبرپختونخوا حکومت کی افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق وفاق کو تجاویز ٹی ایل پی کے گرفتار کارکنان و قائدین کو رہا اور سیل کی گئی مساجد دوبارہ کھولی جائیں، تنظیمات اہل سنت چین، صدر کے قریبی 2اعلی جنرلز سمیت 9فوجی افسران کرپشن الزام میں برطرف مذاکرات زیادہ پرامید نہیں، طالبان حکومت ماضی میں بھی وعدوں سے مکر گئی تھی، اعزاز چودھری پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا پہلا دور مکمل افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا، وزیراعلی خیبرپختونخواسہیل آفریدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔