37 ارب روپے کا کوہستان کرپشن اسکینڈل، مرکزی ملزم اہلیہ سمیت گرفتار، جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
—جیو نیوز گریب
کوہستان کرپشن اسکینڈل کیس کے مرکزی ملزم کو اہلیہ سمیت ایبٹ آباد سے گرفتار کر لیا ہے، ملزم نے اپنی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے منتقل کیے تھے۔
اپر کوہستان مالی اسکینڈل میں گرفتار مرکزی ملزم اہلیہ سمیت آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ملزم قیصر اقبال کو 7 جبکہ اہلیہ کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم قیصر اقبال سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ اپر کوہستان میں 2013ء تک ہیڈ کلرک تھا اور اس اسکینڈل میں ماسٹر مائنڈ تھا۔
ملزم نے جعلی چیکس اور دستاویزات بنائیں اور پھر ان کے ذریعے قومی خزانے سے پیسے نکالے۔
نیب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ملی بھگت سے سرکاری خزانے سے اربوں روپے نکالے۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ملزم نے غیر قانونی طریقے سے 37 ارب روپے غبن کیے جبکہ اپنی اہلیہ اور دیگر بے نامی داروں کے نام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بھی بنائے۔
ملزم کے گھر کی تلاشی پر سونا، بیرونی ممالک کی کرنسی اور لگژری گاڑیاں برآمد ہوئیں جن کی مالیت 14 ارب روپے ہے، دونوں ملزمان نے نیب تفتیش میں تعاون نہیں کیا۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان سے تفتیش کی ضرورت ہے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہ ملزم
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔