Islam Times:
2026-06-03@03:00:45 GMT

کالعدم سپاہ صحابہ کو دوبارہ میدان میں اتارنے کا فیصلہ؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

کالعدم سپاہ صحابہ کو دوبارہ میدان میں اتارنے کا فیصلہ؟

اسلام ٹائمز: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کہنا تھا کہ لگتا ایسا ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کے باپ کو کھولا جا رہا ہے اور دہشتگردی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں کھڑے ہو کر ایک کتا میرے مکتب کی، میرے مسلک کی توہین کرتا ہے، زبان درازی کرتا ہے اور میرے مسلک کو گالیاں بکتا ہے، لیکن پاکستان میں نہ حکومت ہے اور نہ پاکستان میں کوئی ایک ادارہ کہ جو اس کتے کی زبان کو روکے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

گذشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ہاکی گراونڈ میں کالعدم فرقہ پرست اور دہشتگرد جماعت سپاہ صحابہ کے زیراہتمام ایک جلسہ منعقد ہوا، جس میں مولانا احمد لدھیانوی، اورنگزیب فاروقی اور معاویہ اعظم سمیت کالعدم جماعت کے صف اول کے رہنماء شریک ہوئے اور اپنے خطابات میں انتہائی غلیظ اور شرانگیز زبان استعمال کرتے ہوئے مکتب اہلبیتؑ، برادر اسلامی ملک ایران اور انقلاب اسلامی کو نشانہ بنایا۔ کالعدم جماعت کے ان رہنماوں نے ایسی تقاریر کیں کہ جن سے ثابت ہوتا تھا کہ وہ کسی آزاد و مہذب ملک کے وفاقی دارالحکومت میں نہیں، بلکہ کسی جنگل میں کھڑے ہوکر ریاست کی رٹ کو للکار رہے ہیں، تاہم افسوس کہ حکومت کی جانب سے فرقہ پرست جماعت کو شرپسندی اور فرقہ واریت پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔ اس جلسہ کے بعد سے یہ تاثر تقویت پا رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر اس کالعدم فرقہ پرست جماعت کو شائد جان بوجھ کر کسی خاص مقصد کے تحت ایک مرتبہ پھر میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس جلسہ میں استعمال ہونے والی غلیظ زبان پر شیعہ رہنماوں نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے، معروف سماجی و مذہبی رہنماء سیدہ گل زہرا رضوی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پچھلے دو برس سے کالعدم سپاہ صحابہ کی ایکٹیوٹی نہ ہونے کے برابر تھی، صاف نظر آرہا تھا کہ ان کی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔ ان کے جلسے اول ہوتے نہ تھے اور اگر ہوتے بھی تو تقاریر ناپ تول کر ہوتی تھیں۔ اب انہوں نے پرانی روش و رویہ اختیار کر لیا ہے۔ حالیہ اسلام آباد میں ہونے والا جلسہ اس کا شاہد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ افغانستان کے خلاف انہیں استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں تو یہ غلطی ہوگی، وہی جو 90ء میں اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے حوالے سے ہوئی تھی۔ اگر آپ انہیں تحریک لبیک کا خلا پر کرنے کے لئے واپس لا رہے ہیں، یہ اس سے بھی بڑی غلطی ہے۔ غلطیاں مت کریں، اب کچھ ٹھیک ہونے لگا ہے پاکستان میں، اسے دوبارہ بیس سال پیچھے کے دور میں نہ دھکیلیں۔

شیعہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سید راشد رضوی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے اندر ایک کالعدم جماعت جو یہ جلسہ کر رہی ہے تو کس نے اجازت دی ہے۔؟ کیسے کر رہی ہے۔؟ کس قانون کے تحت کر رہی ہے۔؟ کس آئین کے تحت کر رہی ہے۔؟ اگر ریاست نے اس کو کالعدم قرار دیا ہے، پارلیمنٹ نے اس کو کالعدم قرار دیا ہے، تو کیا کاغذ کے اندر کالغدم قرار دیا گیا ہے۔؟ جلسے کے اندر فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی تقریریں جس سے ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جائے، شیعہ، سنی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ شیعہ، سنی آپس میں بھائیوں کے طریقے سے پاکستان کے اندر رہتے ہیں، کسی قسم کا کوئی فرقہ وارانہ جھگڑا نہیں ہے۔ پاکستان دہشتگرد کا شکار ہے۔ شیعہ، سنی جھگڑے کا کوئی شکار نہیں ہے، لیکن کالعدم جماعتیں پاکستان کے اندر ایک ماحول بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جس کے نتیجے کے اندر شیعہ، سنی کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتی ہیں، جس میں یہ پچھلے بہت سارے سالوں سے ناکام ہوئے ہوئے ہیں۔ بہرحال ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کالعدم جماعتوں کو اسلام آباد کے اندر جلسے کرنے کی اجازت نہ دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ یہ جلسے کروا رہے ہیں تو انٹرنیشنلی کیا میسج جا رہا ہے کہ آپ ان کالعدم دہشتگرد جماعتوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔؟ انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔؟ آئی جی اسلام اباد جواب دیں اور وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب آپ کی ناک کے نیچے یہ جلسہ ہوا ہے، آپ جواب دیں، آپ بتائیں کس قانون کے تحت آپ نے اس کالعدم جماعت کو ہاکی گراؤنڈ اسلام اباد میں جلسے کی اجازت دی؟ یا تو اس کے اوپر سے پابندی ہٹا دیں، اگر آپ کے یہ لاڈلے بچے ہیں تو ان کے اوپر سے پابندی ہٹا دیں۔ انہیں کھل کر کام کرنے دیں۔ علاوہ ازیں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کہنا تھا کہ لگتا ایسا ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی کے باپ کو کھولا جا رہا ہے اور دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں کھڑے ہو کر ایک کتا میرے مکتب کی، میرے مسلک کی توہین کرتا ہے، زبان درازی کرتا ہے اور میرے مسلک کو گالیاں بکتا ہے، لیکن پاکستان میں نہ حکومت ہے اور نہ پاکستان میں کوئی ایک ادارہ کہ جو اس کتے کی زبان کو روکے۔

علامہ ناظر عباس نے مزید کہا کہ یہ پاکستان بڑی مشکل سے دہشت گردوں کے جال سے نکلا ہے، بڑی مشکل سے پاکستان کے اندر امن و امان قائم ہوا ہے، دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، لیکن لگتا ہے کہ پھر دوبارہ دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور اسلام آباد کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر یا تو مجھے گالیاں دی گئی ہیں یا مجھے گالیاں دلوائی گئی ہیں۔ برادر اسلامی ملک ایران کو اور انقلاب اسلامی ایران کو گالیاں بکتا ہے، ان کو دہشت گرد کہتا ہے، جس سے پاکستان اور ایران کی دیرینہ دوستی متاثر ہوتی ہے، جس سے پاکستان ایران کے درمیان جو بہترین تعلقات ہیں، وہ متاثر ہونے کے خدشات ہیں، لہذا میں حکومت پاکستان سے کہتا ہوں اس کو روکو۔ پاکستان میں تشیع کمزور نہیں ہے، پاکستان میں تشیع طاقتور ہے۔ ہم نے دنیا کی بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا ہے، ہم نے امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقت کو منہ کی دی ہے، پاکستان میں تشیع ایک حقیقت ہے۔ پاکستان میں تشیع ایک طاقتور ملت اور قوم ہے، ہم اس ملک کی فضا خراب کرنا نہیں چاہتے، ہم جب امریکہ اسرائیل کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں تو یہ گلی کے آوارہ کتے ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لہذا حکومت کی ذمہ داری ہے، ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ایسی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے ان دہشت گردوں کو روکا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئی شیعہ، سنی مسئلہ نہیں ہے، سارے شیعہ، سنی آپس میں ملکر رہتے ہیں، ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، یہ واحد گروہ ہے، جو نہ کسی مسلک سے وابستہ ہے، نہ کسی مسلک کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہمیں اسلام آباد کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر دہشت گرد کہنے والو! میں تم سے سوال کرتا ہوں، آج پاکستان کی سرزمین میں بابو سرٹاپ سے لے کر کراچی کے ساحل تک جتنی دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئی ہیں، جتنے خودکش حملے ہوئے ہیں، چاہے وہ ریاستی ادارے پر ہوں، چاہے وہ فوج پر ہوں، چاہے وہ سول لوگوں پر ہوں، چاہے وہ شیعہ اور سنی پر ہوں، ان ساری دہشت گردوں کی کارروائی کے پیچھے تم لوگ شامل ہو یا نہیں؟ یہ پاکستان کی حکومت بھی جانتی ہے، پاکستان کے ریاستی ادارے بھی جانتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کی فضا کو بہتر کیا جائے، ایسے لوگوں کی زبان بندی کی جائے، پابندی لگائی جائے جو سرعام کھڑے ہو کر میرے مذہب کو اور میرے مسلک کو گالیاں دیتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملک تمہارے باپ کا نہیں ہے، اس ملک کو بنانے والا قائد اعظم شیعہ ہے، اگر پاکستان میں تمہیں شیعہ اتنے برے لگتے ہیں تو پاکستان بنانے والا شیعہ ہے، پاکستان کو سرمایہ دے کر چلانے والا، آگے بڑھانے والا راجہ محمود آبادی شیعہ تھے، جس کے سرمائے سے پاکستان بچا اور آج ہمارے صبر و تحمل کی وجہ سے پاکستان باقی بھی ہے۔ اگر پاکستان تمہیں اتنا برا لگتا ہے اور اگر تشیع تمہیں اتنی بری لگتی ہے تو جاؤ کسی کنویں میں جا کر غرق ہو جاو لیکن پاکستان کو اور پاکستان میں بسنے والے پرامن شہریوں پر الزام تراشی نہ کرو۔ یہ ملک ہمارا ہے، پاکستان ویسے ہی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ریاست پاکستان ویسے ہی دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے، ہماری ریاست کے جوان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں، ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، لہذا یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں ہے۔ میں حکومت پاکستان سے بھی کہتا ہوں، ریاست پاکستان سے بھی کہتا ہوں اس ماحول کو کنٹرول کرو، یہ کسی کے حق میں بہتر نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان میں تشیع نے مزید کہا کہ اسلام ا باد کے کا کہنا تھا کہ کی کوشش کی جا کالعدم جماعت پاکستان کی کہ پاکستان پاکستان کے سے پاکستان کھڑے ہو کر میرے مسلک کو گالیاں کر رہی ہے جا رہا ہے انہوں نے چاہے وہ نہیں ہے کے اندر رہے ہیں کرتا ہے ہے اور کے تحت پر ہوں ہیں تو

پڑھیں:

بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک

اسلام ٹائمز: بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ تحریر: علی احمدی
 
خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع عرب ریاستوں خاص طور پر بحرین اور متحدہ عرب امارات میں اہل تشیع شہریوں کے ساتھ عرب حکمرانوں کا امتیازی سلوک اپنے عروج پر جا پہنچا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپریل کے وسط میں اچانک ہی 15 ہزار اہل تشیع پاکستانی مہاجرین کو ملک بدر کر دیا جو وہاں مختلف شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو گذشتہ چند دہائیوں سے وہاں مقیم تھے اور محنت مزدوری میں مصروف تھے۔ انہیں بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا اور ان کے بینک اکاونٹس بند کر دینے کے بعد خالی ہاتھ وطن واپس بھیج دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سرگرم اراکین نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر امتیازی سلوک کا واضح مصداق قرار دیا ہے اور اسے خطے میں جاری جنگ اور پاکستان کی جانب سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے فعال کوششوں اور کردار سے مربوط جانا ہے۔
 
دوسری طرف بحرین میں بھی اگرچہ مقامی آبادی کی اکثریت اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن حکمفرما آل خلیفہ خاندان شیعہ شہریوں سے بدترین امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے سرکاری سطح پر اہل تشیع کو تمام اہم اور اعلی سطحی حکومتی مناصب سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ شیعہ شہری کسی بھی اہم حکومتی، سیکورٹی یا اقتصادی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے اور یوں ان سے دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک جاری ہے۔ شیعہ شہریوں کو مذہبی رسومات جیسے عزاداری وغیرہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے، امام بارگاہیں اور شیعہ مساجد بند کر دی گئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں شیعہ بحرینی شہریوں سے ایران کی حمایت جیسے بے بنیاد الزام اور بہانے کے ذریعے شہریت واپس لے لی گئی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
 
ظالم و جابر حکومت
حالیہ جنگ میں امریکی صیہونی محاذ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بحرین پر حکمفرما آل خلیفہ رژیم نے صیہونی مہرہ ہونے اور غاصب صیہونی رژیم سے وفاداری کا پورا ثبوت دیتے ہوئے مئی کے آخر سے شیعہ شہریوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آل خلیفہ رژیم کے ہرکارے رات کے وقت شیعہ علماء کے گھرون پر وحشیانہ انداز میں کریک ڈاون کر رہے ہیں اور اب تک دسیوں شیعہ علماء کو گرفتار کر لیا ہے جن میں دو معروف عالم دین شیخ محمد سنقور اور شیخ علی الصدیقی بھی شامل ہیں۔ بحرینی حکام نے ان افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے رابطے میں تھے۔ اسی طرح آل خلیفہ رژیم نے دسیوں شیعہ بحرینی شہریوں کی شہریت بھی ختم کر دی ہے۔ اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر شدید قدغن لگا دیا گیا ہے اور 400 سے زائد شہریوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
 
ان ظالمانہ اور آمرانہ اقدامات کے جواب میں بحرین کے شیعہ علماء نے بیانیہ جاری کیا جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ شیخ عبداللہ الدقاق اور دیگر اسیر یا جلاوطن شیعہ علماء نے آل خلیفہ رژیم کے ظالمانہ اقدامات کو بحرین کے شیعہ اور اسلامی تشخص کے وجود کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ اسی طرح بحرین کے مختلف حصوں میں کفن پوش مظاہرے بھی منعقد ہوئے ہیں اور شیعہ برادری نے ان اقدامات کو آل خلیفہ کی فرقہ وارانہ اور امتیازی سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے ظالمانہ اقدامات ہر گز انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز خاموش نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ آل خلیفہ رژیم کے دل میں شیعیان اہلبیت علیہم السلام سے پایا جانا والا خوف اور وحشت ہے۔
 
اسلام سے غداری
بحرین اور متحدہ عرب امارات پر حکمفرما عرب شہزادوں نے 2020ء میں ابراہیم معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے اور یوں انہوں نے اسلام سے غداری کرتے ہوئے امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا تھا۔ ان کا یہ اقدام ایسے حالات میں انجام پایا تھا جب غاصب صیہونی رژیم نے مقبوضہ فلسطین، جنوبی لبنان اور گولان ہائٹس پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا تھا۔ یہ اقدام درحقیقت اپنے اقتصادی مفادات کو امت مسلمہ کے وقار اور خودمختاری پر ترجیح دینے کا واضح مصداق ہے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل سے اتحاد تشکیل دے کر امت مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اگرچہ صیہونی حکمرانوں نے غزہ میں لاکھوں بیگناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا لیکن بحرین اور امارات اب بھی اسرائیل کے اتحادی بنے بیٹھے ہیں۔
 
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد