اپنے ایک بیان میں سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ حکومتِ سندھ اس وقت بی آر ٹی کے مختلف منصوبوں پر بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے، یہ منصوبہ کورنگی سمیت دیگر علاقوں کے شہریوں کیلئے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ صوبہ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سینیٹر تاج حیدر برج کراچی کے شہریوں کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتِ سندھ کا ایک عظیم منصوبہ ہے، یہ برج بی آر ٹی لائن کا حصہ ہے، جو کم عرصے میں مکمل کیا گیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سینٹر تاج حیدر برج کے ساتھ ایک اور برج بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد کل آٹھ لینز مکمل ہو جائیں گی، سینٹر تاج حیدر پل منصوبے میں سائیکل سواروں کیلئے بھی علیحدہ ٹریک بنایا گیا ہے، تاکہ وہ محفوظ طریقے سے سفر کر سکیں اور ٹریفک میں رکاوٹ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتِ سندھ اس وقت بی آر ٹی کے مختلف منصوبوں پر بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے، یہ منصوبہ کورنگی سمیت دیگر علاقوں کے شہریوں کیلئے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ شرجیل میمن  نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ کراچی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹرانسپورٹ اور جدید سڑکوں کا نظام فراہم کیا جائے، تاکہ شہریوں کو درپیش ٹریفک کے مسائل کم ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری