کراچی کی شارع فیصل پر سندھی ثقافت سے متعلق ریلی کے دوران شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، جب ایف ٹی سی کے قریب ریلی کے شرکا نے پولیس پر پتھراؤ کر دیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی، تاہم مشتعل افراد نے پولیس کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 35 روزہ ورلڈ کلچر فیسٹیول کا آغاز، کیا کچھ دیکھنے کو ملے گا؟

پتھراؤ کے نتیجے میں پولیس کی گاڑیوں اور واٹر ٹینکر کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

کراچی: شارع فیصل پر شرپسندوں نے گاڑی کا شیشہ توڑ دیا

شارع فیصل عام شہریوں کے لیے نوگو ایریا بنا ہوا ہے وہیں شرپسندوں کو جانے کی اجازت کس نے دی

جئے سندھ کے غنڈوں شکلیں دیکھی جا سکتی ہیں

انھیں گرفتار کر کے ان کے سرپستوں تک پہنچا جائے اور سخت قانونی کارروائی کی جائے pic.

twitter.com/XWklop1wHH

— A.K Mohsin (@ak_mohsin) December 7, 2025

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریلی کے شرکا نے ایمبولینس کو بھی نہیں بخشا اور اس پر پتھراؤ کیا۔ مشتعل افراد نے ایمبولینس کے شیشے اور دروازے توڑ دیے، جبکہ ایک پرائیویٹ ایمبولینس کو محض ہارن بجانے پر توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔ نامعلوم افراد ڈنڈوں، مکوں اور لاتوں سے ایمبولینس کو نقصان پہنچاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک ایک پائی کراچی کی ترقی پر خرچ کی جائے گی، مرتضیٰ وہاب

پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ایمبولینس پتھراؤ پولیس سندھی کلچر ریلی کراچی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمبولینس پتھراؤ پولیس کراچی ریلی کے

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا