پاکستان کی جیو سائنس لیبارٹری عالمی معیار کے جدید نظام سے اپ گریڈ کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان میں معدنیات اور قدرتی وسائل کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے تحت قائم جیو سائنس ایڈوانسڈ ریسرچ لیبارٹری کو جدید ترین عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔
یہ اہم اقدام اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے وژن کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں معدنی وسائل کے مؤثر استعمال اور معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔
جدید طرز پر تیار کی گئی اس لیبارٹری کے ذریعے مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں کو معدنیات سے متعلق اعلیٰ معیار کا تجزیاتی ڈیٹا فراہم کیا جائے گا، جو مستقبل میں سرمایہ کاری اور کان کنی کے منصوبوں کو تقویت دے گا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل جیولوجیکل سروے آف پاکستان عدنان عالم اعوان نے اس موقع پر کہا کہ نئی ایڈوانسڈ ریسرچ لیب بلا شبہ عالمی معیار کی جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ہے۔ یہ اقدام پاکستان کو خطے میں معدنی تحقیق کے مرکز کے طور پر اُجاگر کرے گا۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماریہ اعوان نے بتایا کہ لیبارٹری میں نصب جدید ایکس آر ڈی مشین اور اس سے منسلک سافٹ ویئر میں ایک لاکھ سے زائد معدنیات کا ڈیٹا موجود ہے، جو حاصل شدہ نمونوں کا دقیق تجزیہ ممکن بناتا ہے۔
ڈائریکٹر نغمہ حیدر نے کہا کہ اسکیننگ الیکٹران مائیکروسکوپ جیسے جدید آلات کی دستیابی تحقیق کے معیار میں انقلاب لا رہی ہے۔ ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے زمینی سطح کے نیچے موجود قیمتی معدنی ذخائر کی نشاندہی اب کہیں زیادہ تیز اور درست انداز میں ممکن ہو گئی ہے۔
جیولوجسٹ نوید منور کا کہنا تھا کہ جیولوجیکل سروے کا میوزیم 1991 سے ملک و بیرونِ ملک کی نایاب چٹانوں، پتھروں، معدنیات اور فوسلز کے ذخیرے کا حامل ہے۔ سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے پاکستان کے معدنی شعبے میں معاشی استحکام اور برآمدی امکانات میں اضافہ یقینی ہوگا۔
یہ منصوبہ پاکستان میں جدید معدنی تحقیق، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور وسائل کے پائیدار استعمال کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔