شمالی وزیرستان: خود کش حملے کے لیے تیار کی جانے والی گاڑی تباہ، 3 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں خود کش حملے کے لیے تیار کی جانے والی گاڑی کو تباہ کرتے ہوئے 3 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی، جہاں خودکش حملے کے لیے گاڑی تیار کی جارہی تھی۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 3 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو بھی ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں کسی بھی دہشتگرد کو ہلاک کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
یہ کارروائی پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری مسلسل انسداد دہشتگردی مہم ’عزمِ استحکام‘ کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہاکہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں کی قربانیاں اس عزم کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر انسداد دہشتگردی پاک فوج خفیہ اطلاعات سیکیورٹی فورسز کارروائی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر انسداد دہشتگردی پاک فوج خفیہ اطلاعات سیکیورٹی فورسز کارروائی وی نیوز سیکیورٹی فورسز نے ا ئی ایس پی ا ر کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔