قلات میں آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 12 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس کی بنیاد پرکارروائی، اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد
صدرِ مملکت،وزیراعظم نے کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران 12 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے 6 دسمبر کو قلات میں فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا، فورسز نے مؤثر طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا پتہ لگایا۔شدید فائرنگ کے تبادلے میں 12 ہندوستانی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا، دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز ’’عزم استحکام‘‘ ویژن کے تحت دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے مہم پوری رفتار سے جاری رکھیں گی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع قلات میں فتنتہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی پذیرائی کی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ عزم استحکام کے ویژن کے تحت سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قلات میں بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی میں 12 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔صدر زرداری نے کہا کہ ریاست پاکستان ہر قیمت پر امن دشمنوں کو انجام تک پہنچانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، قوم کا عزم فتنۃ الہندوستان کی ہر سازش کو ناکام بنائے گا۔صدرِ مملکت نے قلات میں جاری کلیٔرنس اور سینیٹائزیشن اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے قلات میں کے خلاف
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔