سلامتی کونسل میں پاکستان کو امریکی قر اداد کی حمایت کر نے کی ضرورت ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے غزہ کے بارے میں اپنے 20نکاتی پلان کو دنیا کے سامنے قانونی جواز بنا کر پیشکیا جائے ۔۔ اس منصونے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے فلسطینی ریاست کا کہیں ذکر نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فوج غزہ میں کسی نہ کسی صورت موجود رہے اور ٹونی بیلر نگران ہوں گے جو اسرائیل کے حمایت یافتہ ہیں ، اس قراقرداد کی عرب ممالک کھل کر مخالفت نہیں کر سکتے ا اس کی وجہ یہ ہے وی خود حماس جیسی فلسطین کی آزادی کے کام کر نے والے لوگوں کے عملی طور پر مخالف ہیں اور وہ امریکا ڈرتے ہیں ۔
ٹرمپ پلان امریکا کان امریکا کا اور اسرائیل کے اتحاد ما مظہر ہے اور اس پلان اما مقصد اسرائیل کو غزہ پر مکمل کنٹرول کر انا ہے ۔اس لیے اس پلان کی روس اور چین بھی مخالت نہیں کر یں گے۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے غزہ میں بین الاقوامی فورس کی حکومت کے لیے ایک قرارداد سلامتی کونسل کے بعض اراکین کو پیش کی ہے۔ اس قرارداد کے مطابق اس بین الاقوامی فورس کی حکومت کی مدت 2 سال معین کی گئی ہے۔
سحرنیوز/دنیا: ایکسیوس نیوز ویب سائٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بعض اراکین کو ایک قرارداد کا مسودہ بھیجا ہے جس میں اس نے غزہ میں کم از کم 2 سال کے مشن کے ساتھ ایک بین الاقوامی فورس کے قیام کی تجویز ہے۔
ایکسیوس کی رپورٹ میں اس قرارداد کو “حساس لیکن غیر خفیہ” قرار دیا گیا ہے اور قرارداد میں بین الاقوامی فورس میں شریک امریکہ اور دیگر ممالک کو غزہ پر حکومت کرنے اور سنہ 2027 کے آخر تک سیکورٹی فراہم کرنے کے وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں۔ قرارداد کے مطابق اس مدت کے بعد مشن میں توسیع کا امکان ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کا ا ±ن کا منصوبہ ممکنہ طور پر تاریخ کے عظیم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے اور یہ ’مشرق وسطیٰ میں دائمی امن‘ لا سکتا ہے۔
یہ مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے مگر ان کا 20 نکاتی مجوزہ منصوبہ بلاشہ ایک اہم سفارتی قدم ضرور ہے، جس کا اعلان پیر کو صدر ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں نتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا۔اس منصوبے میں کافی ابہام بھی ہے جسے کوئی بھی فریق اس پورے عمل کو سبوتاڑ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، اور اس کی ناکامی کا ذمہ دار دوسرے فریق کو ٹھہرا سکتا ہے۔
اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ واضح ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ٹرمپ نے نتن یاہو پر یہ بات واضح کرتے ہوئے پیر کو انھیں بتایا کہ اگر حماس اس مجوزہ منصوبے پر راضی نہیں ہوتی تو انھیں (اسرائیل) ’(حماس کو ختم کرنے کے لیے) جو کچھ کرنا پڑے گا اس کے لیے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔‘اگرچہ ٹرمپ نے اسے ایک معاہدے کے طور پر پیش کیا ہے لیکن حقیقت میں یہ مزید مذاکرات کے لیے ایک ڈھانچہ ہے- یا جیسا کہ انھوں نے ایک موقع پر کہا کہ ’اصولوں‘ کا ضابطہ کار ہے۔ یہ اس قسم کے تفصیلی منصوبے سے بہت دور ہے جو غزہ میں جنگ کے خاتمے پر اتفاق کے لیے درکار ہو گا۔
یہ ایک ایسی کوشش ہے جس کا مقصد مرحلہ وار جنگ بندی اور معاہدے کے تحت جنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ٹرمپ ایک ’آل اِن ون‘ امن معاہدہ چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں مخصوص تفصیلات، رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں کی شناخت اور جنگ کے بعد غزہ کی حکمرانی کے لیے مخصوص شرائط جیسے بہت سے دیگر امور کے علاوہ اسرائیلی انخلا کی تفصیلات کا نقشہ تیار کرنے کے لیے کافی کام کی ضرورت ہے۔
2۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام نہیں ہو رہا اور بظاہر مستقبل میں بھی نہیں ہو گا۔
اسرائیل کا دورہ کرنے والی اعلیٰ سطح کی امریکی شخصیات، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور صدر کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر شامل ہیں، کوئی پیش رفت حاصل نہ کر سکے۔
یہ صورت حال پہلے مرحلے سے مختلف ہے، جسے اگرچہ دو سال کی تکلیف دہ بےعملی کے بعد نافذ کیا گیا، مگر نسبتاََ بلارکاوٹ نافذ کر لیا گیا۔
اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ پہلے مرحلے نے فریقین کا کم از کم ایک اہم مقصد پورا کیا، یعنی قیدیوں کی رہائی اور نسل کشی روکنا اور اس کے نفاذ کے لیے امریکہ کا شدید دباو ¿ تھا۔
شدید باہمی اختلافات کے باوجود فلسطینی گروپ اور بہت سی عرب حکومتیں، خاص طور پر مصر، اس منصوبے کے دوسرے مرحلے سے جڑے تین مسائل پر متفق ہیں۔
پہلا مسئلہ یہ کہ یہ منصوبہ مقبوضہ علاقوں کے دو جغرافیائی حصّوں یعنی مغربی کنارے اور غزہ کو پیش رفت، پالیسیوں اور قیادت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے علیحدہ کرتا ہے۔یہ علیحدگی اسرائیل کے اس طرزِ عمل کی تائید کرتی ہے، جو فلسطینی سیاست کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوشش ہے۔
فلسطینی توقع کرتے ہیں کہ دونوں علاقے ایک ہی انتظامیہ کے تحت آئیں یا کم از کم باہم منسلک رہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ منصوبہ غزہ کو غیر ملکی سرپرستی میں دے رہا ہے۔ یہ براہ راست فلسطینی آزادی اور خود ارادیت کی خواہش کے منافی ہے۔
3۔یہ فلسطینی جدوجہد کو اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی بجائے ایک اور غیر ملکی فوج یا فوجوں کے زیرِ اختیار چھوڑ رہی ہے، جس کا کوئی واضح اختتام نہیں۔ اس کے علاوہ مصر محتاط معلوم ہوتا ہے کہ اس کی سرحد پر غیر ملکی فوج موجود ہو اور اس لیے وہ نفاذ سے پہلے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی خواہش ظاہر کر رہا ہے۔تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے نے، جسے ٹرمپ کی اسرائیلی کنیسٹ کی تقریب میں دیے گئے متنازع خطاب نے واضح کیا، غزہ کے بحران کی سیاسی فطرت کو نظرانداز کیا اور اسے صرف انسانی اور اقتصادی بحران کے طور پر پیش کیا۔
یہ بہت زیادہ اہم ہوتا کہ منصوبہ بحران کو اس سیاسی تنازعے کے حصّے کے طور پر سامنے لاتا، جس کا حل 1967 کے بعد کے اسرائیلی قبضے کے خاتمے میں مضمر ہے اور اس طرح فلسطینیوں کو آزادی، خودارادیت اور خود مختاری دینے کا راستہ ہموار ہوتا۔اسرائیل کوشش کر رہا ہے کہ غزہ میں وہی ماڈل نافذ کرے جو اس نے مغربی کنارے میں تیار کیا، البتہ یہ شرط لگا کر کہ فلسطینی اتھارٹی کا کوئی کردار نہ ہو۔
اس ماڈل کا مقصد اسرائیلی قبضہ کرنے والی فورسز اور پی اے کے مابین ذمہ داریوں کو تقسیم کرنا ہے۔ مغربی کنارے میں اسرائیل صرف خود، یکطرفہ اور جبراً اپنی سرحدوں، سرزمین اور سلامتی کا کنٹرول رکھتا ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ پہلے مرحلے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی نصف سے زیادہ زمین پر موجود ہیں، جو ایک نئی ’زرد لکیر‘ بناتا ہے۔
اسی دوران، مغربی کنارے میں اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو تعلیم، صحت، قانون و نظم، میونسپل خدمات وغیرہ کی ذمہ داری دے رہا ہے۔
وہ فریق جائز نہیں ہوگا اور صرف اسرائیلی غیرقانونی فوجی موجودگی اور قبضے کو مکمل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
ان دو ہولناک برسوں سے حاصل ہونے والے سبق یہ ہیں کہ فلسطین کے سیاسی حقوق نظر انداز کرنے سے وہ ختم نہیں ہو جاتے۔
فلسطینیوں کی زمین اور مقدّس مقامات سے باہم وابستگی اور اسرائیل کو بین الاقوامی قانون سے مستثنیٰ سمجھنے کا رویہ معمول نہیں بن سکتا۔
اسرائیل کو اس کی مرضی پر چھوڑ دینا علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور عالمی سطح پر بھی۔
فلسطینی اتھارٹی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو کمزور کرنا، نہ کہ مضبوط بنانا، جیسا کہ اسرائیل کر رہا ہے، صرف انتہاپسندی کو بڑھا سکتا ہے جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔
اسرائیل کو اپنی مرضی پر چھوڑنے کا نتیجہ یہ بھی نکل رہا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں بہت تیزی سے وہ تغیرات رونما ہو رہے ہیں جو دو ریاستی حل کی کوئی جھلک نہیں چھوڑ رہے، بلکہ ایک ریاستی نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کا تیزی سے ابھرتا ہوا منظرنامہ اور مسلسل سفاکی و تشدد کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
غسان الخطب برزت یونیورسٹی میں بین الاقوامی مطالعہ جات کے لیکچرر ہیں اور انہوں نے فلسطینی اتھارٹی میں متعدد عہدے سنبھالے ہیں۔ انہوں نے یروشلم میڈیا اینڈ کمیونیکیشنز سینٹر کی بنیاد رکھی اور اس کے ڈائریکٹر رہے۔اس پوری صورتحا ل میں کیا پاکستان کو امریکا کی قراقر داد کی حمایت کر نے کی ضرورت ہے۔
قاضی جاوید
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی فورس فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کو اسرائیل کے فلسطینی ا کر رہا ہے کے خاتمے کے مطابق ہے کہ اس نہیں ہو سکتا ہے کرنے کے کے بعد کے لیے اور اس ہے اور
پڑھیں:
قابلِ فخر سعد ایدھی
کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔
سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔
اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔
غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔
یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔
ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔
بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔
سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔
انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔
فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔