data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251109-08-19
اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی کامیابی اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی انتھک کوششوں سے دنیا کی بڑی آئی ٹی کمپنیاں پاکستان آرہی ہیں، ملک میں گوگل کروم بک مینو فیکچرنگ کا آغاز ہوگیا ہے جہاں ہر سال 6 لاکھ تک کروم بکس تیار ہوں گی،گوگل کی پاکستان آمد بڑی خوشخبری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو یہاں نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر کچھ عرصے میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت بارے پیش رفت سے آگاہ کرنا مقصود تھا اس حوالے سے خوشخبری بھی ہے کہ گوگل نے پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے ،اس نے اپنی رجسٹریشن مکمل کرلی ہے اور جلد اپنا دفتر کھولے گی، گوگل کروم بکس کی پاکستان میں پیداوار کا آغاز بھی ہری پور میں کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع کے ساتھ مل کر ٹیک ویلی کمپنی سے پرائیویٹ شراکت داری سے یہ شروع ہوئی ،ہر سال پاکستان میں 5 سے 6 لاکھ کروم بکس تیار ہوں گی جس سے نہ صرف سستی اور بہترین ڈیوائسز تعلیم کے شعبے کے لئے دستیاب ہوں گی بلکہ اس سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہری پور کا دورہ کیا جہاں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ 6 سو نوجوان وہاں ملازمت کررہے ہیں، ہم کوشش کریں گے کہ یہاں سے یہ کروم بکس برآمد بھی کی جائیں، یہ بھی خوش آئند تھا کہ ایک بڑی تعداد انجنیئر زسمیت بچیوں کی بھی یہاں خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گوگل کے ساتھ وزارت کا معاہدہ ہوا ہے کہ نوجوان بچوں کو اے آئی کی ٹریننگ دیں گے،پاکستان میں گوگل کی لیبز قائم کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سیکنڈری سکول میں اے آئی کی تعلیم یقینی بنانے جارہے ہیں جس کے لئے وزارت تعلیم سے صوبائی وزارت تعلیم نے بھی تعاون کیا ہے،بلوچستان اور کے پی سے بھی بات چل رہی ہے کہ اے آئی کی تعلیم کو ترجیح دیں۔انہوں نے کہا کہ میٹا کی ٹیم نے بھی پاکستان کا دورہ کیا،ٹریننگ دی،میٹا لامہ پلیٹ فارم اردو میں شروع کردیاہے،اب اے آئی کی سہولت قومی زبان میں میسر ہوگی،ان سے بات چیت اور ہمارے بچوں کی کامیابی سے انہیں اس کا ادراک ہوا کہ ہمارے بچے انتہائی قابل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک کی سٹمپفیڈ پاکستان میں لانچ ہوئی جو دنیا کے کئی ممالک میں نہیں ،اس کے ذریعے ٹک ٹاک کے مثبت استعمال سے تعلیمی سہولیات دستیاب ہوسکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ معرکہ حق میں آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں جنگ جیتنے اور سائبر فتح کے نتیجے میں سعودی عرب سے معاہدہ ہوا جو بڑی کامیابی ہے،اس کے نتیجے میں گو ٹیلی کام نے بھی پاکستان میں اپنا اے آئی ہب کھولا ہے،اس کے تحت سعودی اور پاکستانی کمپنیوں کو براہ راست مارکیٹس تک رسائی ہوگی،وہ یہاں اپنا دفتر کھول رہے ہیں جس سے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ا ن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی انتھک کوششوں اور ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے رکاوٹوں کو حل کیا گیا جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں،دنیا کی بڑی کمپنیاں پاکستان آرہی ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اے آئی کی تھا کہ

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • پاکستان نے چین کے لئے نیا سفیر نامزد کردیا
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام