شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کا 148واں یومِ پیدائش کل عقیدت و احترام سے منایا جائیگا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیالکوٹ:۔شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا 148 واں یومِ پیدائش کل اتوار کو ملک بھر میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔
اس موقع پر مختلف سرکاری و نجی اداروں، علمی و ادبی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور سماجی انجمنوں کی جانب سے ملک بھر میں خصوصی تقریبات، سیمینارز، مذاکرے، مشاعرے اور کلامِ اقبال کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے جن میں قومی شاعر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
سیالکوٹ میں یومِ اقبال کی مرکزی تقریب حسبِ روایت اقبال منزل میں منعقد ہوگی جہاں شاعرِ مشرق کے یومِ ولادت کا آغاز نمازِ فجر کے بعد قرآن خوانی، دعائے مغفرت اور نعت و کلامِ اقبال کی محافل سے کیا جائے گا۔
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے شاعرانہ کلام اور فلسفیانہ افکار کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں بیداری کی لہر پیدا کی اور تصورِ پاکستان پیش کر کے ملتِ اسلامیہ کو نئی سمت عطا کی۔
اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی اور اسلامی اقدار پر مبنی علامہ محمد اقبالؒ کے معاشرتی اصولوں نے پاکستان کی قومی شناخت پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، آج ہم علامہ محمد اقبال کا یومِ پیدائش منا رہے ہیں، شاعرِ مشرق اور مفکر کے وژن نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی اور خود ارادیت کا شعور بیدار کیا۔ صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ 1930ءمیں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے اپنے تاریخی خطاب میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا جو بعد ازاں ایک خودمختار مملکت کی بنیاد بنا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اقبال کی فکر آج بھی ہماری قومی و اجتماعی زندگی کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اقبال نے غلامی کے اندھیروں میں خودی اور ایمان کی شمع روشن کی اور ایک مایوس قوم کو بیداری، علم و عمل اور خود اعتمادی کا درس دیا۔ پاکستان، اقبال کے افکار کی روشنی میں امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمی امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علامہ محمد اقبال
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔