گورنر کے امیدوار کیلئے 8 ،10 نام؛ پارٹی فیصلہ کرے گی : گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ گورنر کے امیدوار کےلیے 8،10 نام سامنے آرہے ہیں، گورنر کا عہدہ میری جائیداد نہیں، یہ پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے۔
نجی چینل پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے کسی کو گورنر لگایا جائےگا تو پتا چل جائےگا، خیبر پختونخوا میں اس وقت ایسی صورتحال نہیں کہ گورنر راج لگانا پڑے۔موجودہ گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ آئین میں ہے کہ کس صورتحال میں گورنر راج لگایا جاسکتا ہے، چاہتے ہیں صوبے اور وفاق کے درمیان تناؤ نہ ہو، مسائل حل ہوجائیں۔انھوں نے کہا کہ اے پی سی میں مجھے، سابق گورنرز اور سابق وزرائے اعلیٰ کو دعوت دی گئی ہے، سابق وزیراعلیٰ کےپی صرف اے پی سی کا اعلان کرتےتھے۔
لاہور :ڈمپر نے موٹر سائیکل کو کچل دیا، 3 افراد جاں بحق
گورنرخیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تمام جماعتوں کے رہنماؤں کو اےپی سی کی دعوت دی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا خود اے پی سی کی دعوت دینا اچھی بات ہے، کےپی میں سب سے اہم امن کا حصول ہے جس کےلیے مل کر کام کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ کابینہ وزرا جب حلف کےلیے آئے تو پارٹی قیادت بھی موجود تھی، تقریب میں مجھے دعوت دی کہ صوبے کے امن کیلئے مل کر کام کرینگے، مجھے کہا کہ امن کےلیے حکومت اور اپوزیشن نے مل کر کام کرنا ہے۔
موٹرسائیکل فلائی اوور سے نیچے گر گئی،سوارموقع پر جاں بحق
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مجھے تقریب میں کہا کہ ماضی کی طرح تلخیاں نہیں ہونی چاہیے، میں نے جواب دیا ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے بہتری میں رکاوٹ آئے۔صوبے کے امن اور خوشحالی کےلیے اے پی سی بلارہے ہیں تو اچھی بات ہے، پہلے بھی اے پی سی ہوئی تھی جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے شرکت کی، اسپیکر نے اسمبلی میں سیکیورٹی صورتحال پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اے پی سی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔