اسلام آباد:

ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ آئندہ ماہ تک آئی ایم ایف کو بجٹ عملدرآمد کے نظام میں اصلاحات سے متعلق حتمی تجاویز تیار کرکے پیش کرے گی۔

بجٹ عملدرآمد کے طریقہ کار میں بہتری کیلئے آئی ایم ایف کے ٹیکنیکل وفد کے ساتھ مختلف اصلاحاتی تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ کے عملدرآمد میں بہتری کیلئے مجموعی طور پر 15 تجاویز زیرِ غور رہیں، جن میں پبلک فنانس مینجمنٹ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کا پلان بھی شامل ہے۔

اس مقصد کیلئے پی ایف ایم ڈیجیٹائزڈ پلان کی نگرانی کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

اصلاحاتی تجاویز میں بجٹ تیاری کے پورے عمل کو ای-آفس اور ای-پیڈز کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنا، مالی ڈیٹا میں تضادات ختم کرنا اور نئے ڈیٹا کی بنیاد پر بجٹ سازی شامل ہے۔

بجٹ تیاری میں تمام وزارتوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹیکنیکل مشن نے آئندہ بجٹ کیلئے ٹیکس پالیسی میں اہم تبدیلیوں سے متعلق تجاویز پر بھی پاکستان کے معاشی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ہے۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا مقصد بجٹ عملدرآمد کے نظام کو شفاف، موثر اور ڈیجیٹائزڈ بنانا ہے تاکہ مالی نظم و ضبط بہتر ہو اور پالیسی فیصلوں میں ڈیٹا بیسڈ اپروچ کو فروغ دیا جاسکے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل آئی ایم ایف

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ