کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے، مقررین سمینار
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ”انسانی حقوق کا عالمی منشور، کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ” کے عنوان سے سمینار کا اہتمام کشمیرکونسل یورپ نے برسلز میں اپنے سیکرٹریٹ میں کیا۔ اسلام ٹائمز۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے یورپی ہیڈکوارٹرز برسلز میں منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ ذرائع کے مطابق ”انسانی حقوق کا عالمی منشور، کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ” کے عنوان سے سمینار کا اہتمام کشمیرکونسل یورپ نے برسلز میں اپنے سیکرٹریٹ میں کیا۔ سیمینار میں دانشوروں، ماہرین، سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلباء نے شرکت کی۔سیمینار کی صدارت کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید نے کی جبکہ سابق رکن برسلز پارلیمنٹ ڈاکٹر منظور ظہور مہمان خصوصی اور گورڈن کالج راولپنڈی کے پروفیسر محمد عماد حنیف جو ان دنوں برسلز میں ایک ریسرچ پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، کلیدی مقرر تھے۔ نظامت کے فرائض پاکستان پریس کلب بیلجیم کے صدر چوہدری عمران ثاقب نے انجام دیے۔ علی رضا سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کونسل ای یو کافی عرصے سے یورپ میں کشمیریوں کے حقوق کو اجاگر کر رہی ہے اور اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد بھی یہی ہے کہ کشمیریوں کے جائز حقوق بالخصوص حق خودارادیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کشمیری طویل عرصے سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی یہ جدوجہد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت اور مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر منظور ظہور نے کشمیریوں کے حقوق کی مسلسل پامالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تک کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام عالم کو چاہیے کہ کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔پروفیسر عماد حنیف نے مسئلہ کشمیر، کشمیریوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے جاری جدوجہد کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ثقافتی، مذہبی اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کے لیے بہت اہم ہے اور پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور اہم بین الاقوامی اور علاقائی تعاون کی تنظیموں بالخصوص اقوام متحدہ اور یورپی یونین کا فرض ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ سیمینار کے دیگر مقررین میں معروف شخصیات فرید خان، محمد افتخار پابلو، سید جعفر نقوی، شازیہ اسلم اور شیراز بٹ شامل تھے۔ دیگر شرکاء میں پیپلز پارٹی کے وسیم اختر، ورلڈ کشمیرڈائس پورہ الائنس یورپ کے صدر چوہدری خالد جوشی، سماجی اور علمی شخصیات شیخ ماجد، کینتھ رائے اور شیراز راج شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کہ کشمیریوں کے انہوں نے کہا کہ کشمیر حقوق کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎