سندھ کے تمام محکموں میں بدعنوانی عروج پر ہے ‘سردارعبدالرحیم
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر)انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے دعوے محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ہیں۔سردار عبدالرحیم نے کہا کہ سندھ کے تمام محکموں میں بدعنوانی عروج پر ہے اور وہاں ایسے لوگوں کو بٹھایا گیا ہے جیسے بلے کو دودھ کی چوکیداری پر بٹھایا گیا ہو۔صحت عامہ اور تعلیم سمیت ہر شعبے میں رشوت کا راج ہے۔نوکریاں پیسے سے خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں ڈگریاں پیسے دے کر حاصل کی جاتی ہیں۔ہسپتالوں میں ڈاکٹر دستیاب نہیں، دوائیاں پرائیویٹ میڈیکل اسٹوروں پر ہی ملتی ہیں۔انصاف بھی خریدا جا سکتاہے اور بغیر رشوت جائز کام بھی مْشکل کر دیا جاتا ہے۔ایریگیشن ڈپارٹمنٹ زمینوں کو فصل کے لیے پانی دینے کے عوض بھی رشوت لی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بدعنوانی کے نظام کی وجہ سے غریب عوام روزانہ مشکلات کا شکار ہیں، اور وزراکے اعلانات و تقریریں صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں، عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سردار عبدالرحیم نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان میں ہر صتح بدعنوانی پر تشویش کا اظاہر کر چکے ہیں۔ Transparency International کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان 180 ممالک میں 135 نمبر پر ہے، اور اس کا اسکور 100 میں صرف 27 رہا۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی نہ صرف اقتصادی نقصان کا باعث ہے، بلکہ تعلیم، صحت، انصاف اور سرکاری خدمات میں شفافیت کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔اسی طرح آی ایم ایف نے گزشتہ دنوں پاکستان میں ہزاروں ارب ڈالر کی کرپشن کا پول کھول دیاسردار عبدالرحیم نے زور دیا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ سیاسی ارادہ اور عملی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، ورنہ عوام کی مشکلات جاری رہے گی-
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عبدالرحیم نے بدعنوانی کے کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔