کرپشن اداروں کو کمزور اور عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے: صدرِ مملکت
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ویب ڈیسک) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بین الاقوامی یومِ انسدادِ بدعنوانی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جدوجہد پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے کیونکہ کرپشن اداروں کو کمزور اور عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔
صدر مملکت نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے 2003 میں انسدادِ بدعنوانی کا دن مقرر کیا جس کا مقصد معاشروں کو شفافیت اور قانون کی بالادستی کی طرف لے جانا ہے، کرپشن ترقی کی رفتار کو سست اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے وقت کے ساتھ اپنے احتسابی نظام کو بہتر بنایا ہے، اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے متعدد کیسز میں رقوم واپس لی گئیں جبکہ متاثرہ شہریوں اور اداروں کو ریلیف اور اثاثے واپس کیے گئے۔
صدر مملکت نے کہا ہے کہ احتسابی اداروں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رہ کر کام کرنا ہوگا کیونکہ شفاف طریقہ کار اور قانون کی عملداری ہی اداروں کی ساکھ کو مضبوط بناتی ہے۔
آصف علی زرداری نے مزید کہا ہے کہ عوام کا اعتماد شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار سے ہی بڑھتا ہے، تمام شہریوں کو ایمانداری اور اچھی حکمرانی کے عزم کو مضبوط کرنا چاہیے کیونکہ دیانت داری اداروں کو مضبوط اور قومی استحکام میں مدد دیتی ہے۔
صدر مملکت نے اپنے پیغام میں شفافیت اور احتساب کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اداروں کو کہا ہے کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔