بھارت کا رویہ موثر علاقائی تعاون میں بڑی رکاوٹ ہے: آصف زرداری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ بھارت کی عدم شرکت کے باعث گزشتہ 11 برس سے سارک کا عمل جمود کا شکار ہیں، بھارت کا رویہ مؤثر علاقائی تعاون میں بڑی رکاوٹ ہے۔ سارک چارٹر ڈے کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر صدر مملکت نے پیغام دیتے ہوئے جنوبی ایشیائی خطے کے عوام و حکومتوں کو مبارکباد دی۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد نے چوتھے اور بارہویں سارک سربراہ اجلاس کی میزبانی کی لیکن انیسواں اجلاس 2016 میں بھارت کی عدم شرکت کے باعث ملتوی ہوا۔ گزشتہ 11 برس سے سارک کا عمل جمود کا شکار ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ بھارت کا رویہ مؤثر علاقائی تعاون میں بڑی رکاوٹ ہے، خطے کی ترقی اور امن غیر ضروری طور پر تعطل کا شکار ہے۔ سارک کے متبادل نئے علاقائی فریم ورک پر غور بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور چین کی شمولیت سے علاقائی رابطہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان جامع، تعاون پر مبنی علاقائی نظام کے لیے پْرعزم ہے۔ تجارت، ٹرانزٹ اور توانائی کے روابط کے فروغ کے لیے تیار ہیں۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ خطے کے مسائل مشترکہ ہیں، حل بھی مشترکہ ہونے چاہئیں۔ باہمی احترام اور تعاون سے خطہ زیادہ پرامن اور خوشحال بن سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: صدر مملکت
پڑھیں:
کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
بگوٹا(نیوز ڈیسک) کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک طیارہ ٹیک آف کے دوران اچانک گر کر تباہ ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا، جس کے باعث اس میں سوار تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
کولمبیا کے فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ سیسنا 206 تھا۔
حکام کے مطابق طیارہ وسطی کولمبیا کے علاقے میٹا کے دارالحکومت ویلاویسینسیو سے لا ماکارینا کی جانب اڑان بھر رہا تھا تاہم ٹیک آف کے دوران نامعلوم وجوہات کی بنا پر کنٹرول کھو بیٹھا اور زمین پر جا گرا۔
حادثے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے ہنگامی پروٹوکول نافذ کر دیے اور تحقیقاتی ٹیم کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا، ٹیم طیارے کے ملبے، تکنیکی شواہد، موسم کی صورتحال اور دیگر اہم پہلوؤں کا جائزہ لے گی تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
فضائی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ حادثے سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے جبکہ طیارے کی تکنیکی حالت اور پرواز سے قبل کی تیاریوں کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کسی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا تاہم تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔
مقامی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ