سندھ ہاری کمیٹی کی جانب سے ثقافتی دن منانے کی تمام تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(سٹاف رپورٹر)سندھ ہاری کمیٹی مرکز کی جانب سے سندھ کی ثقافتی دن کو بھرپور طریقے سے منانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور حیدرآباد میں بابائے سندھ کامریڈ حیدر بخش جتوئی ہائوس کے قریب حیدر چوک پرثقافتی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔اس موقع پر سندھ ہاری کمیٹی کے مرکزی صدر ثمر حیدر جتوئی نے کہا کہ سندھ کی ثقافت کے دن کو بھرپور طریقے سے آج 7دسمبر کو منانے کے لیے مکمل تیاریاں کر لی گئی ہیں۔ سندھ کا یہ ثقافتی تہوار ہاری، مزدور، وکیل، طالب علم، صحافی، سیاسی و سماجی تنظیمیں، ادیب، شاعر، فنکار، بچے، نوجوان، بزرگ، مرد و خواتینسب محبت اور اتحاد کے ساتھ سندھو دیش کے رنگوں میں مناتے ہیں۔’’ ایک سندھ، ایک آواز‘‘کے نعرے کے تحت 7دسمبر اتوار کے روز پوری سندھ ثقافتی رنگوں سے جگمگا اٹھے گی۔ ہر طرف یہ دن عید کی طرح منایا جا رہا ہے اور ہر جگہ سندھی ٹوپی، اجرک اور پگڑیاں سجائی جا رہی ہیں، ہر سندھی کی زبان پر یہی نعرہ ہے کہ سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہاری کمیٹی نے ہاریوں، مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے کامریڈ حیدر بخش جتوئی، مظہر جتوئی، اظہر جتوئی سے لے کر کامریڈ سخی محمد رمضان خاصخیلی تک اپنے تمام رہنمائوں اور کارکنوں کے ساتھ حق کا جھنڈا بلند رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ہاری کمیٹی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔