data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے دفتر میں سندھ دھرتی سے محبت اور سندھ کا ثقافتی دن نہایت جوش و خروش اور روایتی انداز میں منایا گیا۔ تقریب چیئرمین عبدالرحمن راجپوت کی قیادت میں منعقد ہوئی۔تقریب کا مقصد پاکستان کی متنوع ثقافت اور تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنا تھا۔ ایسوسی ایشن کے اراکین نے روایتی لباس زیب تن کیے، اور سندھی ٹوپی اور اجرک پہنی، مختلف صوبائی ثقافتوں کی نمائندگی کی اور قومی یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا۔چیئرمین عبدالرحمن راجپوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ خصوصاً سندھ کے ثقافتی اقدار ہماری قومی شناخت کو مضبوط کرتی ہیں اور باہمی اتحاد و ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے تمام شرکاءکی بھرپور شرکت کو سراہا اور کہا کہ ایسے مثبت اور ثقافتی پروگرام صنعتی برادری میں خوشگوار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ چیئرمین عبدالرحمن راجپوت کی جانب سے اجرک کے تحائف پیش کرنے پر خالد خانزادہ اور آصف قریشی کا شکریہ ادا کیا گیا۔اجلاس میں شریک وائس چیئرمین احسن معید شیخ ایڈوکیٹ، سید یاور شاہ، ضیاءالدین قریشی، شاہد سومرو، صلاح الدین خان غوری، شوکت چوہان راجپوت، محمد آصف، آصف قریشی، محمد علی راجپوت، حسن ضیائ، حفظ الرحمن، حاجی اسماعیل، حاجی اختیار آرائیں، وسیم جی، طارق شیخ، اقبال شیخ، عبدالوحید شیخ، تقی شیخ اور رافع قریشی شامل تھے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود