سندھ کی ثقافتی اقدار اتحاد و اتحاد ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے،عبدالحرمن راجپوت
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے دفتر میں سندھ دھرتی سے محبت اور سندھ کا ثقافتی دن نہایت جوش و خروش اور روایتی انداز میں منایا گیا۔ تقریب چیئرمین عبدالرحمن راجپوت کی قیادت میں منعقد ہوئی۔تقریب کا مقصد پاکستان کی متنوع ثقافت اور تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنا تھا۔ ایسوسی ایشن کے اراکین نے روایتی لباس زیب تن کیے، اور سندھی ٹوپی اور اجرک پہنی، مختلف صوبائی ثقافتوں کی نمائندگی کی اور قومی یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا۔چیئرمین عبدالرحمن راجپوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ خصوصاً سندھ کے ثقافتی اقدار ہماری قومی شناخت کو مضبوط کرتی ہیں اور باہمی اتحاد و ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے تمام شرکاءکی بھرپور شرکت کو سراہا اور کہا کہ ایسے مثبت اور ثقافتی پروگرام صنعتی برادری میں خوشگوار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ چیئرمین عبدالرحمن راجپوت کی جانب سے اجرک کے تحائف پیش کرنے پر خالد خانزادہ اور آصف قریشی کا شکریہ ادا کیا گیا۔اجلاس میں شریک وائس چیئرمین احسن معید شیخ ایڈوکیٹ، سید یاور شاہ، ضیاءالدین قریشی، شاہد سومرو، صلاح الدین خان غوری، شوکت چوہان راجپوت، محمد آصف، آصف قریشی، محمد علی راجپوت، حسن ضیائ، حفظ الرحمن، حاجی اسماعیل، حاجی اختیار آرائیں، وسیم جی، طارق شیخ، اقبال شیخ، عبدالوحید شیخ، تقی شیخ اور رافع قریشی شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔