پیپلز پارٹی کے رہنما سید حسن مرتضی کے والد سید غلام مرتضیٰ شاہ انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج 8 دسمبر بروز پیر بعد نمازِ مغرب امام بارگاہ جاگیر علی اکبر، کربلا رجوعہ سادات، چنیوٹ میں ادا کی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور دیگر سیاسی قائدین نے سید حسن مرتضیٰ کیساتھ اظہار تعزیت کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی کے والد سید غلام مرتضیٰ شاہ انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ آج 8 دسمبر بروز پیر بعد نمازِ مغرب امام بارگاہ جاگیر علی اکبر، کربلا رجوعہ سادات، چنیوٹ میں ادا کی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور دیگر سیاسی قائدین نے سید حسن مرتضیٰ کیساتھ اظہار تعزیت کیا ہے اور مرحوم کی بلندی درجات کیلئے دعا کی ہے۔ مرحوم سید غلام مرتضیٰ شاہ کافی عرصہ سے لاہور کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ گزشتہ شب اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔