data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خرطوم: سوڈان میں جاری بدامنی اور خانہ جنگی کے دوران ایک افسوسناک واقعے میں اقوام متحدہ کے امن مشن (یو این پیس کیپنگ مشن) پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے 6 امن اہلکار جاں بحق ہوگئے،  واقعے نے نہ صرف سوڈان میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون حملہ سوڈان کے ایک شورش زدہ علاقے میں کیا گیا، جہاں اقوام متحدہ کا امن مشن شہریوں کے تحفظ اور انسانی امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ حملے کے وقت بنگلادیشی امن اہلکار معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ اچانک ڈرون کے ذریعے حملہ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں 6 اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے حکام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن مشن پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے،  امن اہلکاروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ ابتدائی طور پر حملے کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی سوڈان میں سرگرم مسلح گروہوں کی جانب سے کی گئی ہو سکتی ہے۔

بنگلادیشی حکومت نے بھی اپنے اہلکاروں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بنگلادیش کے وزارت خارجہ  نے  کہا کہ امن کے قیام کے لیے خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ حکومت نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

واضح رہے کہ سوڈان گزشتہ کئی ماہ سے شدید سیاسی بحران اور مسلح تنازع کا شکار ہے، جہاں مختلف دھڑوں کے درمیان جھڑپیں معمول بن چکی ہیں،  ان حالات میں اقوام متحدہ کے امن مشن کو نہ صرف شہری آبادی کے تحفظ بلکہ امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں بھی شدید خطرات کا سامنا ہے۔ ماضی میں بھی یو این اہلکاروں پر حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں، تاہم حالیہ ڈرون حملہ سکیورٹی خدشات میں خطرناک اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے سوڈان میں ڈرون حملہ

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی