جنوبی شام میں اسرائیل کی سرگرمیاں ترکیہ کیلئے خطرہ ہیں، انقرہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
گزشتہ سال 8 دسمبر 2024ء کو بشار الاسد کی حکومت گرنے کے بعد، بہت سے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ شام، ترکیہ اور قابض اسرائیل کے درمیان مفادات کا جنگی میدان بن جائے گا جہاں دونوں فریق زیادہ مال غنیمت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ شب ترکیہ کے وزیر خارجہ "حکان فیدان" نے ایک انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے شام کی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنوبی شام میں ہونے والی سرگرمیاں ممکنہ طور پر ترکیہ کے لئے چیلنج میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جنوبی شام میں صرف صیہونی دراندازی کا مسئلہ نہیں بلکہ وہاں ایک جارح کی حیثیت سے اسرائیل کی موجودگی نے اس خطے کو خطرناک بنا دیا ہے۔ شام میں عدم استحکام پر مبنی اسرائیل کی پالیسی، اس ملک میں اتحاد کی بحالی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے شمالی شام میں کُردوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کُرد فورسز، اسرائیل کی شہہ پر اتنا اچھلتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ، شام میں جولانی رژیم کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ شام کے عسکری ڈھانچے پر ہونے والے مسلسل زمینی و فضائی صیہونی حملے تخریب کارانہ ہیں۔
دوسری جانب 10 دسمبر کو "شام ایک سال بعد: تعمیر نو اور احیاء" کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں حکان فیدان نے کہا کہ اس وقت خطے کی سب بڑی مشکل یہ ہے کہ اسرائیل نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے لئے شام کو اکھاڑا بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے اس امر کی جانب زور دیا کہ ہمسایوں کے لئے بدامنی پیدا کر کے اسرائیل کی سلامتی کبھی بھی یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔ اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اپنی سلامتی کو محفوظ بنانے کے لئے دوسروں کے لئے اشتعال نہ پھیلائے۔ قبل ازیں اپریل 2025ء میں انطالیہ ڈپلومیٹک اجلاس كے دوران ترک صدر "رجب طیب اردگان" نے شام كو لے كر موقف اپنایا كہ تركیہ كبھی بھی شام كو كسی نئی مصیبت میں مبتلا نہیں ہونے دے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال 8 دسمبر 2024ء کو بشار الاسد کی حکومت گرنے کے بعد، بہت سے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ شام، ترکیہ اور قابض اسرائیل کے درمیان رسہ کشی کا میدان بن جائے گا جہاں دونوں فریق زیادہ مال غنیمت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کی انہوں نے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ