WE News:
2026-06-03@05:32:52 GMT

زلمے خلیل زاد، پاکستان کی ’فکر میں دبلا ہونے والا‘ ایک شخص

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

افغانستان اور عراق میں امریکی سفیر کے طور پر تادیر خدمات سرانجام دینے والے زلمے خلیل زاد ایک بار پھر پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے حق میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

اگلے روز انہوں نے ایک ٹویٹ کی:

’میں اس شخص کی ہمت اور عزم کو سلام پیش کرتا ہوں جو بے رحم اور بے شرم پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سرد پانی کی توپوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ منظر مجھے تیس سال پہلے چین کے تیان آن من اسکوائر کی یاد دلاتا ہے، جب ایک اور نوجوان نے کمیونسٹ پارٹی کے ٹینکوں کی قطار کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی جرات کی تھی۔‘

 ان کی ٹوئٹ کو من و عن اس لیے پیش کیا کہ قارئین غوروفکر کرسکیں کہ یہ کسی سفارت کار، پالیسی میکر یا کسی دانشور کی زبان ہے یا  کسی سیاسی گروہ کے تھرڈ کلاس جنونی ورکر کی؟

قبل ازیں 28نومبر کو لکھا:

’ مجھے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے رویّے پر شدید حیرت ہے۔ ایک ماہ سے ایک صوبے کے وزیرِاعلیٰ (خیبر پختونخوا)، ملک بھر میں لاکھوں پاکستانی، ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت، اور خود ان کا خاندان۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی جیل میں کیا حالت ہے، حتیٰ کہ یہ بھی کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ اس بارے میں شفاف طریقے سے کوئی معلومات دینے سے انکار کر رہی ہے۔
یہ واقعی چونکا دینے والا اور افسوسناک رویہ ہے۔‘

زلمے خلیل زاد اس سے پہلے بھی عمران خان کے حق میں اس انداز میں متعدد  ٹویٹس کرچکے ہیں جیسے وہ پاکستان تحریک انصاف کے جنونی کارکن ہوں۔

جب عمران خان کی حکومت تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ختم ہوئی تو زلمے خلیل زاد خاموشی سے پاکستان آئے اور سیدھے بنی گالہ (اسلام آباد) میں مقیم عمران خان کے پاس پہنچے اور ان سے 3 گھنٹے تک ملاقات کی۔ ون ٹو ون ملاقات۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اُس وقت زلمے خلیل زاد کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا۔

انہی دنوں جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا بیان بھی سامنے آیا کہ زلمے خلیل زاد نے خفیہ دورہ کر کے عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ اسلام مخالف قوتیں ملک میں انتشار چاہتی ہیں۔ زلمے خلیل زاد پاکستان میں موجود علیحدگی پسند تنظیموں کا حامی ہے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ عمران خان کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں۔ یہودیوں کے نمائندوں کی جانب سے عمران خان کی حمایت لمحہ فکریہ ہے۔ امریکا سے یہودیوں کے نمائندے عمران خان کی حمایت میں سامنے آ رہے ہیں۔‘

انہی دنوں پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں بھی شائع ہوئیں کہ زلمے خلیل زاد عمران خان کے بعد جس دوسری شخصیت سے ملے، وہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔ انہوں نے جنرل باجوہ پر زور دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ معاملات ٹھیک کر لیں۔

بعد میں وہ فون کے ذریعے بھی جنرل باجوہ کو عمران خان سے ملاقات پر آمادہ کرتے رہے۔ ایوانِ صدر میں عمران خان اور جنرل باجوہ کی جو ملاقات ہوئی، وہ دراصل زلمے خلیل زاد کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔

عمران خان کی گرفتاری کے بعد 14 مارچ 2023 کو  زلمے خلیل نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری سے پاکستان میں جاری بحران بڑھے گا۔ سابق امریکی سفارت کار نے یہ تجویز دی کہ حکومت جون میں انتخابات کی تاریخ دے اور اس دوران تمام سیاسی جماعتیں مل کر ملک کی سکیورٹی، ترقی اور استحکام کے لیے منصوبہ بندی کریں۔

جس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے انہیں شٹ اپ کال دی تھی کہ پاکستان کو کسی کے ’لیکچر‘ یا مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے باوجود زلمے خلیل زاد کو پاکستان کی ’فکر بہت زیادہ ستاتی رہی‘۔ چنانچہ انہوں نے آنے والے دنوں میں پھر ٹویٹ کی کہ ’ایسا لگتا ہے کہ (پی ڈی ایم) حکومت طے کر چکی ہے کہ عمران خان کو ریاست کا دشمن نمبر ایک بنایا جائے تاہم ایسا کرنے سے پاکستان میں بحران شدید ہو گا اور بین الاقوامی مدد میں کمی آئے گی۔‘

انہوں نے مزید لکھا

’مجھے امید ہے کہ پاکستانی سیاستدان قومی مفاد کو نقصان پہنچانے والی تباہ کن سیاست سے گریز کریں گے‘، اس کے بعد انہوں نے پیش گوئی کی ’ اگر ایسا نہیں ہوتا تو سپریم کورٹ ایسے کھیل کا حصہ بننے سے انکار کر دے گی۔‘

یہ محض ایک پیش گوئی نہ تھی بلکہ سکرپٹ کے مطابق ان واقعات میں سے ایک واقعہ تھا جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔ اس سکرپٹ کے مطابق کردار ادا کرنے کی سپریم کورٹ کے متعدد ججوں نے بھرپور کوشش بھی کی۔ دیکھ لیجیے عمر عطا بندیال سے جسٹس منصور علی شاہ تک کا تڑپنا پھڑکنا۔ لیکن جب ان میں سے کسی کی بھی دل نہ گل سکی تو انہیں استعفیٰ دے کر گھر کی راہ لینا پڑی۔

زلمے خلیل زاد نے مذکورہ بالا ٹویٹ کے آخر میں یہ لکھنا بھی ضروری سمجھا کہ ’پاکستان کے بارے میں میری تشویش بڑھ رہی ہے۔‘

زلمے خلیل زاد کو جو لوگ نہیں جانتے، وہ اگر از خود تحقیق کی ہمت نہیں ہے تو جان لیں کہ زلمے خلیل زاد  ایک افغان نژاد امریکی سفارتکار اور خارجہ امور کے ماہر ہیں۔ وہ افغانستان کے شہر مزارِ شریف میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کابل میں جبکہ اعلیٰ تعلیم امریکا میں حاصل کی۔ امریکا گئے تو امریکی بن گئے۔ بطور طالب علم وہ قدامت پسند امریکی گروہ میں شامل رہے۔

زلمے خلیل زاد کی فکری اور نظریاتی تشکیل یونیورسٹی آف شکاگو میں ہوئی، جہاں انہوں نے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے دوران معروف یہودی مفکر البرٹ وولسٹیٹر کی براہِ راست سرپرستی میں تعلیم حاصل کی۔  وولسٹیٹر کو نیو کنزرویٹو (Neo-Con) تحریک کا بانی تصور کیا جاتا ہے، اور اسی فکر کی بنیاد پر بش انتظامیہ نے عراق اور افغانستان کی جنگوں کا آغاز کیا تھا۔

اُس وقت وولسٹیٹر کے نمایاں شاگردوں میں زلمے خلیل زاد کے ساتھ پال وولفوویٹز (جو بش دور میں نائب وزیرِ دفاع رہے اور سخت گیر صہیونیت نوازی کے لیے جانے جاتے ہیں)، فرانسس فوکویاما اور دیگر نیو کنزرویٹو مفکرین شامل تھے۔

البرٹ وولسٹیٹر نے اپنے منتخب شاگردوں پر مشتمل ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا تھا جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسی کو اسرائیلی بالادستی کے تحفظ سے جوڑنے کا حامی تھا۔ خلیل زاد نے وولسٹیٹر کی نگرانی میں جو پی ایچ ڈی مقالہ لکھا، وہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی سلامتی کے موضوع پر تھا، جس میں انہوں نے اسرائیل کی حمایت کو خطے میں امریکی کامیابی کے لیے لازمی قرار دیا۔

البرٹ وولسٹیٹر سے وابستگی نے زلمے خلیل زاد کے لیے امریکی اشرافیہ اور پالیسی ساز حلقوں کے دروازے کھول دیے۔ انہوں نے رینڈ کارپوریشن میں خدمات انجام دیں اور مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے متعلق متعدد تحقیقی رپورٹس تحریر کیں، جن میں ’عرب۔اسرائیلی تنازع کے خاتمے کے اثرات‘ جیسے موضوعات شامل تھے۔ ان رپورٹس میں خلیجی سلامتی کو اسرائیل کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا۔

بعد ازاں وہ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس سے بھی وابستہ رہے۔ امریکی پالیسی ساز حلقوں میں ان کی شناخت اسرائیل کے نہایت وفادار حامی کے طور پر کی جاتی تھی۔ جارج بش کے دور میں بعض حلقے انہیں ’صہیونیت کا خفیہ مسلمان ہتھیار‘ قرار دیتے تھے۔ Washington Report on Middle East Affairs نے انہیں ’نیو کنز کا بیگ مین‘ کہا، کیونکہ وہ صہیونی مفادات، بالخصوص اسرائیل کی سلامتی، کو امریکی پالیسیوں کی بنیادی شرط کے طور پر پیش کرنے کی حکمتِ عملی اپناتے رہے۔ بعض امریکی تجزیہ کاروں نے انہیں ’صہیونی ہندوتوا پراکسی‘ بھی کہا۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ زلمے خلیل زاد نے معروف یہودی مفکرہ شیریل بنارڈ سے شادی کر رکھی ہے، جو رینڈ کارپوریشن میں پالیسی ماہر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اسلام کو ’انتہا پسند‘ اور ’معتدل‘ زمروں میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی اسی فکری منصوبے کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ شیریل بنارڈ اور زلمے خلیل زاد نے اسلام، افغانستان اور عراق کے موضوعات پر متعدد مشترکہ مضامین تحریر کیے۔ ان کی تحریروں میں صہیونی مفادات نمایاں دکھائی دیتے ہیں، اور وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو اسرائیل کی سلامتی کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ زلمے خلیل زاد صرف اور صرف عمران خان ہی کی بنیاد پر پاکستان کی فکر میں کیوں پتلے ہوئے جا رہے ہیں؟ وہ کیوں پاکستانی فوج کے خلاف مسلسل شعلہ بیانی کر رہے ہیں؟  اگر کسی کو اس کی کوئی بنیاد سمجھ آتی ہے تو بیان کرے۔

ایک سابق امریکی سفارت کار جو اِس وقت کسی امریکی عہدے پر فائز نہیں ہے،  اس نے ہزاروں فلسطینی خواتین اور بچوں کی شہادت پر ایک حرف نہ لکھا، حالانکہ گیلپ کے ایک جائزے کے مطابق 60فیصد امریکی فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بولے۔ خلیل زاد ان 32فیصد امریکیوں میں شامل تھا جو ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت پر شاداں و فرحاں تھے۔

اس امریکی سفارت کار نے ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کی شہادتوں پر ایک لفظ نہیں لکھا، بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں لیکن زلمے خلیل زاد نام کے شخص نے ایک ٹویٹ نہیں کی۔ ایسے میں جب یہ شخص عمران خان کے حق میں اور  پاکستانی فوج کے خلاف بولتا ہے تو ایک عام پاکستانی سوچتا ہے کہ  یہ شخص ضرور کسی مشن پر ہے۔ ممکن ہے کہ عمران خان اور ان کے کارکنوں کو ادراک نہ ہو لیکن یہ شخص ضرور کسی مشن پر ہے۔ اس لیے ایسے شخص کی حمایت عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کو فائدہ نہیں نقصان ہی پہنچائے گی۔

ایوان اقتدار سے عمران خان کی بے دخلی کے بعد جب زلمے خلیل زاد نے عمران خان کے حق میں پرچم بلند کیا تھا، ایک امریکی صحافی بوبی گھوش نے کہا تھا:

’پاکستانی قوم اب چوکنا اور ہوشیار ہوجائے کہ سابق امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد پاکستانی سیاست میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ جب بھی زلمے خلیل زاد نے کسی ملک کے بارے میں بتایا کہ وہاں کی سیاست کو کس انداز میں چلایا جانا چاہیے، پھر وہاں کیا کچھ ہوا، تاریخ بہت اچھی طرح سے دکھا سکتی ہے۔ اس لیے اب پاکستانیوں کو ڈرنا چاہیے بلکہ بہت زیادہ ڈرنا چاہیے‘۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبیداللہ عابد

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عمران خان کے حق میں زلمے خلیل زاد نے کہ زلمے خلیل زاد امریکی سفارت کہ عمران خان عمران خان کی میں امریکی سفارت کار کے طور پر کی حمایت انہوں نے کے ساتھ نہیں ہے رہے ہیں کے بعد کے لیے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان