دہشتگردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا ترکمانستان میں عالمی فورم سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ دہشتگردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے۔ عالمی برادری افغان حکومت پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے زور ڈالے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں منعقدہ عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن و سلامتی، ترقی یافتہ ٹیکنالوجیز تک منصفانہ رسائی، مالیاتی شمولیت اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز پر زور دیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ترکمان قوم اور قیادت کے ساتھ تعلقات کو بھائی چارے کی مثال قرار دیا اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور کردار کو اجاگر کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترکمان قوم کے رہنما گربانگلی بردی محمدوف اور صدر بردی محمدوف میرے لیے بھائیوں جیسے ہیں۔ انہوں نے ترکمانستان کی 30 سالہ مستقل جانبداری پر مبارکباد دی اور کہا کہ اشک آباد کے شاندار شہر اور ترکمان عوام کی گرمجوشی، سفید سنگ مرمر کی خوبصورتی کے ساتھ قابل تعریف ہیں۔
شہباز شریف نے عالمی امن کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے رواں سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگردی کے نئے خطرات کی جانب توجہ دلائی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ افغان حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد فراہم کرے۔
وزیراعظم نے اپنی خارجہ پالیسی کے اصول بھی واضح کیے اور کہا کہ تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عالمی ترقی کے لیے 2023 کے ایجنڈے کو جامع لائحہ عمل قرار دیا، مالیاتی شمولیت اور خواتین کو معاشی دھارے میں شامل کرنے کی اہمیت اجاگر کی، اور کہا کہ پاکستان کا صاف اور سرسبز ترقیاتی ماڈل دنیا کے لیے مثال ہے۔
مزید برآں، وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی اور عالمی عدم مساوات کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجیز تک منصفانہ رسائی عالمی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے 2025 کو بین الاقوامی امن اور اعتماد کا سال قرار دینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشک آباد ترکمانستان وزیراعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اشک ا باد ترکمانستان وزیراعظم محمد شہباز شریف شہباز شریف عالمی امن انہوں نے کہا کہ کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔