لیگی رہنما، ممتاز صحافی اور دانشور سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
عرفان صدیقی سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کے دورِ حکومت میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی امور اور بعد ازاں پریس سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ عرفان صدیقی 2021 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، ممتاز صحافی اور دانشور سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کر گئے۔ مرحوم طویل عرصے سے علیل تھے۔ اُن کے انتقال کی خبر سے سیاسی و صحافتی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ معروف کالم نگار اور سیاسدان عرفان صدیقی 25 دسمبر 1949 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار اُن شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے صحافت، تعلیم اور سیاست تینوں میدانوں میں نمایاں خدمات سر انجام دیں۔ وہ کئی دہائیوں تک اردو صحافت میں بطور کالم نگار، تجزیہ کار اور ادبی شخصیت سرگرم رہے۔ ان کے کالمز نے ملکی سیاست، معاشرت اور نظریاتی مباحث پر گہرا اثر چھوڑا۔
عرفان صدیقی سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کے دورِ حکومت میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی امور اور بعد ازاں پریس سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ عرفان صدیقی 2021 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ 2024 میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے۔ عرفان صدیقی کو ان کی علمی، صحافتی اور قومی خدمات کے اعتراف میں ہلالِ امتیاز کا اعزاز بھی دیا گیا۔ عرفان صدیقی کے انتقال پر وزیراعظم محمد شہباز شریف ،سربراہ مسلم لیگ ن نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، مختلف سیاسی رہنماؤں، صحافی تنظیموں اور ادبی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی مسلم لیگ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔