گلگت بلتستان کے نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ، متحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس کل طلب
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
صوبائی حکومت کی مدت اختتام کے قریب پہنچتے ہی نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کیلئے مشاورت کا عمل تیزی سے جاری ہے، اس سلسلے میں اپوزیشن لیڈر نے متحدہ اپوزیشن کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ اپوزیشن رکن اسمبلی سید سہیل عباس کو کنوینئر مقرر کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کیلئے اپوزیشن لیڈر کاظم میثم نے پارٹی سے مشاورت مکمل کر لی، جس کے بعد انہوں نے متحدہ اپوزیشن کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق موجودہ صوبائی حکومت کی مدت اختتام کے قریب پہنچتے ہی نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کیلئے مشاورت کا عمل تیزی سے جاری ہے، اس سلسلے میں اپوزیشن لیڈر نے متحدہ اپوزیشن کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ اپوزیشن رکن اسمبلی سید سہیل عباس کو کنوینئر مقرر کر دیا ہے۔ سید سہیل عباس اور جاوید علی منوا اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب وزیر امور کشمیر نے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کیلئے اہم اجلاس کل اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے۔
متحدہ اپوزیشن لیڈر کے ترجمان جاوید علی منوا کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جمہوری انداز میں اس عمل میں شریک ہوگی۔ شفاف الیکشن ہی آئندہ پانچ سال کے استحکام اور ترقی کی ضمانت ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز کاظم میثم نے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کے سلسلے میں پارٹی کا باضابطہ اجلاس آج طلب کر لیا تھا۔ اجلاس کا مقصد ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی صدر سید علی رضوی سے مشاورت اور وزیر امور کشمیر کی جانب سے طلب کردہ اجلاس کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اس سلسلے میں پارٹی سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد کاظم میثم نے متحدہ اپوزیشن کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نگران وزیراعلیٰ کے معاملے پر مشترکہ موقف اختیار کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے متحدہ اپوزیشن کا اجلاس نگران وزیراعلی کی تقرری کیلئے طلب کر لیا ہے اپوزیشن لیڈر سلسلے میں
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔