حکومت کو گرانا ہے ورنہ پاکستان ڈوب جائیگا،اپوزیشن اتحاد
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
نئی تحریک شروع پارلیمنٹ نہیں چلنے دینگے،حزب اختلاف کی نئی تحریک کا مقصد موجودہ حکومت کو گرانا ہے،حکومت نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے عوام کی بالادستی ہونی چاہیے تھی،محمود خان اچکزئی
حکومت نے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا تو پھر بیٹھ کر اس کا علاج کریں گے ،تحریک اقتدار کیلئے نہیں آئین، پارلیمنٹ، پاکستان کی جمہوریت کو بچانے کیلئے ہے ، رہنما حزب اختلاف کا انٹرویو
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیٔرمین اور حزب اختلاف کیسینئر راہنما محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی متوقع نئی تحریک کا مقصد موجودہ حکومت کو گرانا ہے ورنہ پاکستان ڈوب جائے گا ایک انٹرویو میں حزب اختلاف کے سیاسی اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے راہنما محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ، سلو اینڈ سٹیڈی یہ تحریک چلائیں اور انشا اللہ اس تحریک کو اس نہج تک پہنچائیں گے کہ گلگت سے کوئٹہ تک، کوئٹہ سے لسبیلہ تک، خیبر تک سب جگہ ذہنی یکجہتی قائم ہو ہر جگہ جلسے ہوں گے، ہر جمعے کو مظاہرے ہوں گے ہم ان کو یہ موقع نہیں دیں گے کہ ہمارے بچوں کو ماریں اگر انہوں نے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا تو پھر بیٹھ کر اس کا علاج کریں گے ہم نے اس حکومت کو گرانا ہے، ورنہ پاکستان ڈوب رہا ہے۔پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف گذشتہ دنوں ملک گیر احتجاجی مہم کا اعلان کیا تھامحمود خان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک اقتدار کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ آئین، پارلیمنٹ، پاکستان کی جمہوریت کو بچانے کے لیے ہے اگر ایک پارٹی کے پاس سو فیصد اقتدار بھی ہو تو بھی ان کو یہ اختیار نہیں کہ آئین کی بنیادی باتوں کو چھیڑیںانہوں نے تو سب کچھ بدل دیا طے یہ ہوا تھا کہ پارلیمنٹ بالادست ہوگی، آئین بالادست ہوگا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی لیکن انہوں نے بنیادی ڈھانچہ ہی بدل دیا۔ایک سوال کے جواب میں کہ نئی تحریک ماضی کی تحریکوں سے کتنی مختلف ہوگی؟ بلوچستان سے سینیٔر سیاست دان کا کہنا تھا کہ سیاسی لوگوں پر یہ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ یہ خود غرض ہیں، اپنی بادشاہی کے لیے کر رہے ہیں لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگاملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے وہ لوگ جن کی بڑی ساکھ تھی جن کو صحیح اور بہترین جج تصور کیا جاتا تھاانہوں نے استعفے دیے اور اس جذبے سے دیے کہ سب کچھ ایک فرد کے لیے سرنڈر کر دیا گیا ہے دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ پارٹیاں بھی (ترمیم) میں شامل ہیں جن کا ہم احترام کرتے ہیں ہم کبھی کسی کے مثبت کام کو نہیں بھولتے، جنہوں نے ماضی میں قربانیاں دی ہیں اسلام آباد کی جانب کسی مارچ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جلدی ہوتی ہے، اسلام آباد آخر میں آئیں گے۔وجہ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان آپ کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں؟ ان کا جواب تھا کہ اس بارے میں آپ مولانا صاحب سے پوچھ سکتے ہیں وہ سیاسی آدمی ہیں، حالات کو سمجھتے ہیں ایسے حالات میں کوئی بھی ذی شعور پاکستانی بغیر تحریک جوائن کیے نہیں رہ سکتا ہم سب اکٹھے ہیں یہ ہمارا اپنا ملک ہے اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو اس کی بنیادی بنیادیں ہل جائیں گی کیا اپوزیشن کے اندر بھی کچھ دراڑیں ہیں جن کی وجہ سے نتائج نہیں مل رہے؟ تو محمود خان اچکزئی کا اصرار تھا کہ ہم کیوں ایک دوسرے پر شک کریں؟ لیکن ہمارے انٹیلی جنس ادارے یہ کمال رکھتے ہیں کہ وہ ہر گھر میں گھستے ہیں، ہر پارٹی میں گھستے ہیں اس کے باوجود وہ نتائج نہیں لا سکے جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا ان کو امید تھی کہ اس تحریک میں جید لوگ بھی آئیں گے، وکلا بھی آئیں گے، غریب مزدور بھی آئیں گے، سول سوسائٹی بھی آئے گی، آپ بھی انشائاللہ ہوں گی سب مل کر پاکستان زندہ باد کہیں گے۔سپیکر قومی اسمبلی نے گذشتہ ہفتے مذاکرات کی پیشکش بھی کی تھی اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب ہوگا تو بتایا جائے گا یہ باتیں کہنے کی نہیں ہوتیں، جب کریں گے تو سب سے بات ہوگی ان کا الزام تھا کہ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے عوام کی بالادستی ہونی چاہیے تھی، پارلیمنٹ کی ہونی چاہیے تھی آئین کی روح یہ تھی کہ سولین بالادستی ہوگی لیکن چیف ایگزیکٹو شہباز شریف اب کسی کے چپڑاسی بن گئے ہیں اس ملک میں تماشے ہوتے رہتے ہیں افغانستان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صورت حال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ایسے نہیں ہوتے کہ آپ پہلے ہی دھمکی دے دیں کہ ناکام ہوئے تو حملہ کر دوں گا افغان پاگل نہیں ہیں افغان کبھی کسی کی دھمکی میں نہیں آتے انٹرنیشنل فورمز بلائیں، ہمسایہ ممالک کو بلائیں چین، افغانستان، پاکستان، تاجکستان، ایران سب بیٹھ کر بات کریں دھمکیوں سے کچھ نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: حکومت کو گرانا ہے محمود خان اچکزئی ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف نئی تحریک ا ئیں گے کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔