گزشتہ 10 روز سے شدید علیل بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی رہنما اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان اپنی والدہ کی علالت نہ سنبھلنے کی صورت میں وطن واپس پہنچیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو باضابطہ طور پر ‘وی آئی پی’ شخصیت قرار دے دیا

خالدہ ضیا ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال میں نازک حالت میں زیر علاج ہیں۔ اتوار کی رات ان کی حالت اچانک بگڑنے پر انہیں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔

بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے بتایا کہ خالدہ ضیا کے بیٹے اور پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان صرف اس وقت بنگلہ دیش واپسی کا فیصلہ کریں گے جب معالجین یہ تعین کر لیں کہ آیا وہ بین الاقوامی علاج کے لیے قابل منتقلی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حالت میں کوئی بہتری نہ آئے تو طارق رحمان کی واپسی جلد متوقع ہے۔

یہ بیان منگل کی شام بی این پی کے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر جاری کیا گیا۔

خالدہ ضیا جو اب تقریباً 80 سال کی ہیں طویل عرصے سے دل کی بیماری، ذیابیطس، گٹھیا، جگر کے امراض، اور گردوں کے مسائل سمیت متعدد پیچیدگیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں سانس لینے میں دشواری کے بعد 23 نومبر کو ایور کیئر اسپتال داخل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے بعد میں ان کے دل اور پھیپھڑوں میں انفیکشن کی تصدیق کی۔

بی این پی کی رہنما اور خالدہ ضیا کی ذاتی معالجہ ڈاکٹر اے زیڈ ایم زاہد حسین نے بتایا کہ برطانیہ سے ماہر ڈاکٹرز آج یہاں پہنچیں گے تاکہ ان کا معائنہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹرز انہیں منتقلی کے قابل سمجھیں اور میڈیکل بورڈ بھی متفق ہو، تو انہیں مناسب علاج کے لیے بیرونِ ملک لے جایا جا سکتا ہے۔

جنوری میں خالدہ ضیا لندن گئی تھیں تاکہ جدید طبی علاج حاصل کر سکیں جہاں انہوں نے ابتدا میں اسپتال اور بعد میں طارق رحمان کے گھر قیام کیا اور 6 مئی کو ڈھاکہ واپس آئیں۔

طارق رحمان سنہ 2008 سے برطانیہ میں مقیم ہیں جب انہیں 1/11 ہنگامی صورتحال کے دوران جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ اس وقت سے وہ بنگلہ دیش واپس نہیں آئے اور بیرون ملک سے ہی بی این پی کی قیادت کر رہے ہیں۔

گزشتہ جولائی میں افواج کی حمایت یافتہ مداخلت کے بعد عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد طارق رحمان کے خلاف کئی مقدمات خارج کر دیے گئے جس کے باعث ان کی واپسی پر دوبارہ گفتگو شروع ہو گئی۔ اگرچہ بی این پی رہنما کہتے ہیں کہ وہ جلد واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن کسی مخصوص تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیے: سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے علاج کے لیے چینی ٹیم ڈھاکہ پہنچ گئی

گزشتہ ہفتے خالدہ ضیا کی حالت بگڑنے پر قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئیں اور کچھ بی این پی اندرونی حلقوں نے کہا کہ طارق فوری طور پر واپس آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

تاہم ہفتہ کی صبح فیس بک پوسٹ میں طارق رحمان نے لکھا کہ وہ اپنی بیمار والدہ کے ساتھ رہنے کے خواہشمند ہیں لیکن واپسی کا فیصلہ مکمل طور پر ان کے اختیار میں نہیں ہے۔

انہوں نے تفصیلات ظاہر کیے بغیر کہا کہ سیاسی حقائق حل کیے جانے ضروری ہیں قبل اس کے کہ وہ واپس آئیں۔

دوسری جانب حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی واپسی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پیر کو مشیر خارجہ توحید حسین نے کہا کہ اگر وہ درخواست کریں تو ان کو ایک دن کے اندر ٹریول پاس جاری کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: خالدہ ضیا کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل

آج، مشیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جہانگیر عالم چوہدری نے کہا کہ بنگلہ دیش میں کسی کے لیے کوئی سیکیورٹی خطرہ نہیں اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش خالدہ ضیا طارق رحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش خالدہ ضیا سابق وزیراعظم خالدہ ضیا خالدہ ضیا کے علاج کے لیے بنگلہ دیش نے کہا کہ بی این پی انہوں نے کیا گیا

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی