27 ویں ترمیم منظوری، اتحادی ارکان کو اسلام آباد میں رہیں،حکومت
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک )حکمران اتحاد نے 27ویں آئینی ترمیم کے منظوری تک تمام ارکان پارلیمنٹ کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کردی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے میں حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے ارکان کو دارالحکومت میں رہنے کا کہہ دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کا بل پہلے پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کا مجوزہ بل جمعہ کے روز سینٹ میں پیش کیا جائے گا، پیش ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی بھجوادیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل آئندہ ہفتے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ حکمران اتحاد میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی)، مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور دیگر پارٹیاں شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم ذرائع کے مطابق
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔