گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اپنے پیغام میں کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ تشدد کا شکار خواتین کو انصاف، تحفظ اور مدد فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا ہر شہری کا فرض ہے کیونکہ خاموشی ظلم کو بڑھاتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین پر ہر قسم کا تشدد ناقابلِ قبول اور معاشرتی تنزلی کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کے تحفظ، وقار اور بنیادی حقوق کے لیے مؤثر قانون سازی اور سخت عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ تشدد کا شکار خواتین کو انصاف، تحفظ اور مدد فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کامران خان ٹیسوری نے مزید کہا کہ خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا ہر شہری کا فرض ہے کیونکہ خاموشی ظلم کو بڑھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں اور ایک مہذب معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب خواتین کو عزت، مساوات اور تحفظ حاصل ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خواتین کو کہ خواتین تشدد کے کے خلاف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔