3 طلاق سمیت کوئی بھی طلاق 90 دن پورے ہونے تک موثر نہیں ہے، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تین طلاق سمیت کوئی بھی طلاق 90 دن پورے ہونے تک موثر نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد شفیع صدیقی نے تحریر کردہ فیصلہ جاری کردیا۔ جس میں قرار دیا گیا ہے کہ طلاق کیلیے مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت 90 روزہ مدت ضروری ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ خاوند نے بیوی کو بلا شرط طلاق کا حق دیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا بھی مکمل اختیار ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ محمد حسن سلطان کی سول پٹیشن نمٹا دی گئی اور سندھ ہائی کورٹ کے 7 اکتوبر 2024 کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2016 میں ہوئی، نکاح نامے کی شق 18 میں بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا گیا ،بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7(1) کا نوٹس جاری کیا۔
بیوی نے 90 دن پورے ہونے سے پہلے 10 اگست 2023 کو کارروائی واپس لے لی تھی۔ عدالت نے قرا ردیا یونین کونسل / ثالثی کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی تھی۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ قانون میں بیوی کو دیا گیا حقِ طلاق “بلا شرط” اور مکمل تصور ہوگا،90 روز مکمل ہونے سے پہلے طلاق موثر نہیں ہوتی۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر تاریخی فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ ریاست کی طاقت رکھنے والے ادارے کسی بھی صورت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اور نہ ہی زیر حراست افراد پر ظلم، بدسلوکی یا تشدد کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ ایک ایسے کیس میں سنایا جس میں چند پولیس اہلکاروں پر الزام تھا کہ انہوں نے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی زریاب خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اس تمام عمل کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔
عدالت عظمیٰ نے اس پس منظر میں نہ صرف پولیس اہلکاروں کی اپیلیں مسترد کر دیں بلکہ تفصیلی فیصلے کے ذریعے اصولی طور پر یہ بات بھی طے کر دی کہ کسی شہری کو، چاہے وہ کسی جرم کا ملزم ہی کیوں نہ ہو، ریاستی تحویل میں غیر قانونی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
7 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا کہ انسانی زندگی کا حق بنیادی ترین حق ہے اور آئینِ پاکستان ہر شہری کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کا تقاضا کرتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جب قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی فرد اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کسی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھتا ہے، اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے یا ایسے اقدامات کرتا ہے جن سے اس کی جان یا عزت کو نقصان پہنچے، تو یہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انصاف کے پورے نظام پر سوال کھڑا کر دیتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض اوقات پولیس تشدد ماورائے عدالت قتل کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو کہ انتہائی سنگین جرم ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پولیس کو گرفتاری کا مکمل اختیار ضرور حاصل ہے لیکن یہ اختیار آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور گرفتار شخص کو اس کی گرفتاری کی وجہ سے بھی لازماً آگاہ کیا جائے۔
فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 اور آرٹیکل 14 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریاستی اداروں کو ہر حال میں شہریوں کی عزت، آزادی اور قانونی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر انسانی سلوک، ذلت آمیز رویہ، بربریت یا زبردستی اعترافِ جرم کرانے کا عمل کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔
فیصلے میں اس بات کو بھی اہم قرار دیا گیا کہ پولیس کے اندر موجود غلط رویوں کو روکنے کے لیے موثر، بیرونی اور مخصوص نگرانی کا نظام ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال رہے اور ریاست کی رٹ برقرار رہے۔
عدالت نے کہا کہ زریاب خان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ثبوت ہے کہ بعض اہلکار اپنے عہدے کو ذاتی اختیار سمجھ لیتے ہیں اور ایسے افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی نہ صرف ضروری ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے لازمی بھی ہے۔ عدالت نے پولیس اہلکاروں کی نوکری سے برطرفی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس محکمہ اپنے اندر سے ایسے عناصر کا خاتمہ نہ کرے تو شہریوں کا اعتماد مکمل طور پر مجروح ہو سکتا ہے۔