مجلس علماء مکتب اہلبیت بلتستان کی جانب سے ایم ڈبلیو ایم کے سابق اراکین اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
شرکاء نے دونوں عوامی نمائندگان کی قومی، ملی اور عوامی مسائل پر جرات مندانہ پارلیمانی کردار اور اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ مشکل دور میں ان کی استقامت اور ثابت قدمی قابل تحسین ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس علماء مکتب اہلبیت بلتستان کی جانب سے سابق رکن اسمبلی شیخ اکبر علی رجائی اور سابق اپوزیشن لیڈر کاظم میثم کے اعزاز میں پانچ سالہ پارلیمانی مدت کی تکمیل پر سکردو میں ایک پُروقار عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کی صدارت مجلس علماء مکتب اہلبیت بلتستان کے صدر و رکن جی بی کونسل شیخ احمد علی نوری نے کی، جبکہ تنظیمی مسئولین اور معزز شخصیات کی بڑی تعداد نے اس پروقار تقریب میں شرکت کی۔ شرکاء نے دونوں عوامی نمائندگان کی قومی، ملی اور عوامی مسائل پر جرات مندانہ پارلیمانی کردار اور اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ مشکل دور میں ان کی استقامت اور ثابت قدمی قابل تحسین ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سخت ترین حالات میں بھی ایم ڈبلیو ایم کے اراکین اسمبلی نے اصولی سیاست کا علم بلند رکھا اور ایوان کے اندر مزاحمتی اور موثر اپوزیشن کی نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسے باصلاحیت، دیانت دار اور عوام کا درد رکھنے والے نمائندے دیگر حلقوں سے بھی منتخب ہوں تو وسائل کے تحفظ، خطے کی حقیقی ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ آخر میں سابق ممبران اسمبلی نے حوصلہ افزائی پر مجلس علماء مکتب اھلبیت بلتستان کے مسئولین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مجلس علماء مکتب
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔