شام کے صدر احمد الشرع نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل خطے میں کشیدگی بڑھا کر غزہ میں ہونے والی ’خوفناک قتلِ عام‘ سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوحہ فورم میں سی این این کی کرسچیان امان پور کو دیے گئے انٹرویو میں شامی صدر کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی قیادت ’سیکیورٹی خدشات‘ کو جواز بنا کر خطے میں عسکری کارروائیاں پھیلا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شام میں انتخابی عمل کا اعلان، عبوری پارلیمنٹ کی ابتدائی مدت 30 ماہ ہوگی

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام 7 اکتوبر کے واقعے کو بنیاد بنا کر ہر قسم کی جارحانہ پالیسی کو تقویت دیتے ہوئے بحرانوں کو دوسرے ملکوں کی جانب برآمد کرر ہےہیں۔

’اسرائیل ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جو ہوا میں موجود بھوتوں سے لڑ رہا ہے۔‘

اسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی حملوں میں اضافہ

دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے شام کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے تیز کر دیے ہیں جن میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

Sharaa says Israeli demands for demilitarised zone puts Syria in 'dangerous' position
➡️ https://t.

co/51BIJUBelE pic.twitter.com/vRAE1wvebc

— FRANCE 24 English (@France24_en) December 6, 2025

جنوبی حصوں میں زمینی کارروائیاں بھی جاری ہیں، گزشتہ ماہ دمشق کے نواحی علاقے بیت جن میں اسرائیلی فورسز کے حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج نہ صرف شامی سرحد کے اندر گہرائی تک آگے بڑھ رہی ہے بلکہ متعدد نئے چیک پوائنٹس بھی قائم کر چکی ہے۔

مزید پڑھیں:شامی صدر احمد الشرع عالمی سطح پر نمایاں، ملک میں چیلنجز کا سامنا

دوسری جانب شامی شہریوں کو گرفتار کرکے اسرائیل منتقل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

الشرع نے کہا کہ شام نے ہمیشہ امن کا جواب امن سے دیا۔ ’۔۔۔لیکن اسرائیل نے ہمیں شدید جارحیت اور فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کروایا۔‘

’حملہ اسرائیل نہیں، شام پر ہو رہا ہے‘

احمد الشرع نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ 1974 کے جنگ بندی معاہدے اور اس میں مقرر کردہ لائنوں کی طرف واپس لوٹے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ نئے ’بفر زون یا غیر فوجی علاقہ‘ جیسے انتظامات خطے کو انتہائی خطرناک راستے پر دھکیل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: شام کے عبوری حکمران احمد الشرع سے مسیحی علما کی اہم ملاقات کا مقصد کیا تھا؟

’اسرائیل کہتا ہے کہ اسے جنوبی شام سے خطرہ ہے، لیکن اگر شام پر حملے ہو رہے ہیں تو بفر زون کا حق کس کے پاس زیادہ ہے۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حال ہی دمشق سے جبل الشیخ تک ایک غیر فوجی بفر زون کے قیام کی شرط رکھتے ہوئے شام کے ساتھ معاہدے کا عندیہ دیا تھا۔

شام کے اندرونی حالات: اتحاد، تصادم اور مستقبل

صدر الشرع نے شام کے اندرونی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں وحدت پیدا ہو رہی ہے لیکن چیلنجز باقی ہیں۔

ان کے مطابق شام آج اپنے بہترین دن گزار رہا ہے مگر مکمل اتفاقِ رائے کسی ملک میں بھی ممکن نہیں ہوتا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ سابق حکومت کے دور میں معاشرتی فاصلے بہت بڑھ گئے تھے، جنہیں کم کرنے کے لیے نئی حکومت نے مختلف گروہوں اور افراد کی عام معافی بھی دی۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل کو شام میں عدم استحکام سے گریز کی سخت تنبیہ

انہوں نے اس تصور کو مسترد کیا کہ اسد حکومت کے خلاف بغاوت ’سنی انقلاب‘ تھا۔

’شام کی ہر برادری اس تحریک کا حصہ تھی، یہاں تک کہ علوی برادری بھی اسد حکومت کے زیرِاستعمال ہونے کی قیمت ادا کرتی رہی۔‘

مزید پڑھیں: شام میں آئین کی تشکیل نو اور انتخابات میں 4 سال لگ سکتے ہیں، احمد الشرع

سال کے دوران شام میں فرقہ وارانہ تشدد بھی دیکھنے میں آیا، خصوصاً ساحلی علاقوں میں، جہاں علوی اقلیت کے سیکڑوں افراد مارے گئے۔ اسی طرح السویدا میں بدوی قبائل اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 1,400 سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔

الشرع نے کہا کہ ’’کچھ جرائم ضرور ہوئے اور ہم انہیں قبول نہیں کرتے، مگر شام ایک قانون کی عملداری والی ریاست ہے اور قانون ہی سب کے حقوق کی ضمانت دے سکتا ہے۔‘‘

خواتین کے حقوق اور سیاسی مستقبل

حقوقِ نسواں کے حوالے سے عالمی سطح پر خدشات موجود ہیں، کیونکہ شامی صدر احمد الشرع کی سابقہ تنظیم تحریر الشام نے ماضی میں خواتین پر سخت پابندیاں نافذ کی تھیں۔

تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئی حکومت میں خواتین بااختیار ہیں، ان کے حقوق محفوظ ہیں اور وہ حکومت اور پارلیمنٹ میں بھرپور شمولیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ کو شامی خواتین کے لیے نہیں، شامی مردوں کے لیے فکر کرنی چاہیے۔

’انتخابات 5 سال میں‘

احمد الشرع نے واضح کیا کہ شام کا مستقبل مضبوط اداروں کے قیام سے وابستہ ہے، نہ کہ کسی فردِ واحد کی طاقت سے۔

ان کا کہنا تھا کہ عبوری دور کے بعد انتخابات ضرور ہوں گے۔

مارچ میں منظور ہونے والے عبوری آئینی اعلان کے مطابق 5 سالہ عبوری مدت کے دوران پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے۔

’قیادت کا انتخاب عوام کا بنیادی حق ہے، یہ اسلامی تعلیمات کا بھی حصہ ہے۔ حکمرانوں کو اکثریت کی رضامندی حاصل ہونا ضروری ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمد الشرع اسرائیل چیک پوائنٹس سی این این شام کرسچیان امان پور

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احمد الشرع اسرائیل سی این این کرسچیان امان پور کہ اسرائیل احمد الشرع مزید پڑھیں الشرع نے انہوں نے حکومت کے کے لیے شام کے رہا ہے کہا کہ کیا کہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • جتنی خطرناک سازشیں نوازشریف کیخلاف ہوئیں عوام کی سپورٹ نہ ہوتی تو ہمارا نام ختم ہوجانا تھا: مریم
  • ’اکیلا میسی کچھ نہیں کر سکتا‘، فٹبال لیجنڈ کا بیان
  • فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا: محسن نقوی
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر