روس کا فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ گر کر تباہ‘ 7افراد سوار تھے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس کا فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس میں 7افراد سوار تھے۔ وزارت دفاع نے بتایا طیارہ مرمت کے بعد ٹیسٹ فلائٹ کے دوران ماسکو کے قریب حادثے کا شکار ہوا۔ ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔سویت دور کا این 22طیارہ فوجی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا تھا۔فوری طور پر حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے ابتدائی شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ جس جگہ طیارہ گرا وہ ایوانوو کا علاقہ ہے جو ماسکو کے مشرق میں تقریباً 200 کلومیٹر (125 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔