امریکا کا مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلروں پر حملہ، 14 ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن : امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ میں ملوث مبینہ کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے تین فضائی حملے کیے گئے جن میں 14 افراد ہلاک اور ایک شخص زندہ بچ گیا، یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا کہ یہ حملے چار کشتیوں پر کیے گئے جو امریکی انٹیلی جنس کے مطابق منشیات اسمگلنگ میں ملوث دہشت گرد تنظیموں کے زیرِ استعمال میں تھیں، تمام کارروائیاں بین الاقوامی پانیوں میں کی گئیں اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
ہیگسیتھ نے بتایا کہ پہلی کشتی میں آٹھ، دوسری میں چار اور تیسری میں تین افراد سوار تھے، جن میں سے 14 ہلاک ہوگئے جبکہ ایک زندہ بچ جانے والے کی تلاش کے لیے امریکی جنوبی کمانڈ نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے، میکسیکن ریسکیو حکام نے اس آپریشن کی ذمہ داری سنبھال لی۔
امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہم نے دو دہائیوں تک دوسروں کے وطن کا دفاع کیا، اب ہم اپنا دفاع کر رہے ہیں، امریکا اب منشیات فروشوں کے خلاف اسی شدت سے کارروائی کرے گا جس طرح القاعدہ کے خلاف کی گئی تھی، یہ نارکو ٹیرورسٹس امریکی شہریوں کی جانیں لے رہے ہیں اور ہم انہیں اسی انداز میں تلاش کر کے ختم کریں گے۔
حکام کے مطابق ان کشتیوں پر منشیات کی بڑی مقدار موجود تھی اور یہ بحیرۂ کیریبین اور وسطی امریکا کے درمیان روایتی اسمگلنگ راستوں سے گزر رہی تھیں، ہلاک شدہ افراد اور ضبط شدہ سامان سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔