Jang News:
2026-07-24@03:05:58 GMT

کراچی ایئر پورٹ پر منشیات اسمگلنگ کے 2 پارسل پکڑے گئے

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

کراچی ایئر پورٹ پر منشیات اسمگلنگ کے 2 پارسل پکڑے گئے

فوٹو: فائل

پاکستان کسٹمز نے کراچی ایئر پورٹ پر کروڑوں کی منشیات کی اسمگلنگ ناکام بنادی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) حکام کے مطابق پاکستان کسٹمز نے کراچی ایئرپورٹ پر منشیات پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی ہے۔

حکام کے مطابق تھائی لینڈ سے آنے والے پارسل سے 5 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی 1 اعشاریہ 69 کلو گرام چرس برآمد ہوئی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق بیلجیم سے آنے والے پارسل سے 6 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی 1 ہزار 945 ایکٹیسی گولیاں ملی ہیں، جو ویکیوم کلینر کے پارسل میں چھپائی گئی تھیں۔

حکام کے مطابق دنیا بھر میں ای کامرس کے بڑھتے رجحان کے باعث سرحد پار سامان کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے۔ کرمنل نیٹ ورکس کے ڈاک سسٹم کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستان کسٹمز انسداد منشیات اسمگلنگ کی کڑی نگرانی کےلیے پرعزم ہے۔ مؤثرنگرانی سے بڑی مقدار میں منشیات لوگوں تک پہنچنے سے پہلے پکڑی جا رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق