کراچی ایئر پورٹ پر منشیات اسمگلنگ کے 2 پارسل پکڑے گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
فوٹو: فائل
پاکستان کسٹمز نے کراچی ایئر پورٹ پر کروڑوں کی منشیات کی اسمگلنگ ناکام بنادی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) حکام کے مطابق پاکستان کسٹمز نے کراچی ایئرپورٹ پر منشیات پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی ہے۔
حکام کے مطابق تھائی لینڈ سے آنے والے پارسل سے 5 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی 1 اعشاریہ 69 کلو گرام چرس برآمد ہوئی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق بیلجیم سے آنے والے پارسل سے 6 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی 1 ہزار 945 ایکٹیسی گولیاں ملی ہیں، جو ویکیوم کلینر کے پارسل میں چھپائی گئی تھیں۔
حکام کے مطابق دنیا بھر میں ای کامرس کے بڑھتے رجحان کے باعث سرحد پار سامان کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے۔ کرمنل نیٹ ورکس کے ڈاک سسٹم کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان کسٹمز انسداد منشیات اسمگلنگ کی کڑی نگرانی کےلیے پرعزم ہے۔ مؤثرنگرانی سے بڑی مقدار میں منشیات لوگوں تک پہنچنے سے پہلے پکڑی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔