اسلام آباد حملے کے کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد حملے کے کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، عطا تارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد حملے کے تمام ملوث عناصر کو قانون کے تحت کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے تمام ملوث عناصر کو قانون کے تحت پکڑا جائے گا اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی اور سیکیورٹی ادارے واقعات کی جامع تفتیش کر رہے ہیں۔وزیراطلاعات نے وانا کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے خطے میں سازش قرار دیا اور کہا کہ وانا حملے کے پیچھے بھارت، افغانستان کا گٹھ جوڑ ہے۔ ان کے مطابق یہ تعلقات پراکسی وار کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور ایسے عناصر کو جواب دہ بنایا جائے گا جنہوں نے پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ بھارت اور افغانستان کو پاکستان کی ترقی سے تکلیف ہے اور اس سازش کے خلاف بھرپور قومی اور سفارتی ردعمل جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنا بیانیہ موثر طریقے سے پیش کر رہا ہے، جسے دوست ممالک تسلیم کر رہے ہیں۔
وزیرِ اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ دنیا ہمارا بیانیہ مان رہی ہے، دوست ممالک ساتھ کھڑے ہیں، اور یہ کہ بین الاقوامی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید تقویت دی جائے گی۔عطا تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پراکسی وار میں بھارت اور افغانستان کو منہ کی کھانا پڑے گی، پاکستان نے جنگ میں بھارت کو شکست دی، بھارتی فورسز نے شکست کے بعد سفید جھنڈے لہرائے۔انھوں نے قوم کو ہمت اور یکجہتی کا پیغام بھی دیا اور کہا کہ پاکستانی عوام دہشت گردی کے واقعات سے دبنے والی نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریاستی ادارے ہر قسم کے چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخلفائے راشدین بھی عدالتوں میں پیش ہوئے، صدر مملکت مستثنیٰ کیوں؟ حافظ نعیم الرحمن خلفائے راشدین بھی عدالتوں میں پیش ہوئے، صدر مملکت مستثنیٰ کیوں؟ حافظ نعیم الرحمن عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر انکی بہنوں اور کارکنوں کا اڈیالہ روڈ پر علامتی دھرنا، پولیس سے تلخ کلامی خیبر پختونخوا حکومت کا امن جرگے کا اعلامیہ وفاقی حکومت سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو بھجوانے کا فیصلہ یہ قانون سازی نہیں، آئین اور قانون پر حملہ ہے، اس وقت پاکستان میں ایک ڈھونگ رچایا جارہا ہے،سلمان اکرم راجا اندازہ ہے افغانستان کیا کررہا ہے، دہشتگردوں کو نہ روکا تو بندوبست کرینگے، وزیرداخلہ افغان پولیس پریڈ میں پاکستان مخالف ترانے، اسلام آباد کو آگ لگانے کی دھمکیاںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے عطا تارڑ نے اسلام آباد حملے کے جائے گا کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ