اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے بعد لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے بعد لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے بعد لاہورمیں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔اسلام آبادمیں خودکش حملہ کے بعد لاہورمیں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے،عدالتوں کی سکیورٹی پرتعینات اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی،ماتحت واعلی عدالتوں کے ارد گرد پولیس پٹرولنگ بڑھائی جارہی ہے۔
پولیس کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر گاڑیوں کی چیکنگ بڑھادی گئی،انٹری پوائنٹس کی کلوزسرکٹ کیمروں سے مانیٹرنگ جاری ہے،مشکوک گاڑیوں کی جامع چیکنگ کی جارہی ہے،شہر میں داخل ہونے والوں کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے ۔اس کے علاوہ شہر کی حساس تنصیبات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی،سیف سٹی کیمروں کی مدد سے اہم شاہراہوں اورتنصیبات کی مانیٹرنگ جاری ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفضل الرحمان کی اپنے ارکان اسمبلی کو 27ویں ترمیم کیخلاف ووٹ دینے کی ہدایت فضل الرحمان کی اپنے ارکان اسمبلی کو 27ویں ترمیم کیخلاف ووٹ دینے کی ہدایت پاکستان سے کوئی حملہ ہوا تو فوری جوابی کارروائی ہوگی، افغان حکام کی دھمکی اگست 2026تک پاکستان کی تمام عدالتیں سولر انرجی پر منتقل کی جائیں گی، چیف جسٹس وانا کیڈٹ کالج پر حملہ، سکیورٹی فورسز نے تمام کیڈٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا اسلام آباد خودکش دھماکا،فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آگئے اسلام آباد حملے کے کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، عطا تارڑCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی اسلام آباد کے بعد
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔