طالب علم کا قتل، مرکزی ملزم ساتھیوں کی فائرنگ میں ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پنجاب کے ضلع خوشاب میں آٹھ سال کے طالب علم کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں ملوث مرکزی ملزم ساجد مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بچے کو قتل کرکے لاش نہر میں پھینک دی تھی۔
بچے کی لاش نہر مہاجرین سے ملی تھی، بچے کو دو نومبر کو قائدآباد کے علاقے سے اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھر سے سودا سلف لینے نکلا تھا۔
پولیس کے مطابق اغواکاروں نے بچے کے اہلخانہ سے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔