سیکرٹری داخلہ خاتون، کمسن بچیوں کے اغوا کو مثالی کیس بنائیں: اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اسلام آباد(این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاہور سے خاتون اور کمسن بچیوں کے اغوا کے معاملے پر پولیس تفتیش پر اظہارِ عدم اطمینان کرتے ہوئے ایف آئی اے کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیدیا ۔ ہفتہ کو جسٹس محسن اختر کیانی کے تحریری حکمنامے کے مطابق سابق چیف ایگزیکٹو افسر پی آئی اے مشرف رسول کے وقاص احمد، سہیل علیم کے ساتھ لین دین کے تنازع پر لاہور سے خاتون اور بچیوں کی خلاف ضابطہ گرفتاری کی گئی۔عدالت نے وقاص احمد اور سہیل علیم کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات میں اب تک کی پولیس تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کیلئے ڈی جی ایف آئی اے کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی تمام مقدمات کی آزادانہ طور پر تحقیقات کرے، خاتون اور کم سن بچوں کے اغوا اور اس سے متعلق جرائم میں تفتیشی افسر اور پولیس اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ کو ڈائریکٹر کرائمز کے مساوی عہدے کا افسر تعینات کرنے کا حکم دیا، متعلقہ افسر سے آئندہ سماعت پر مقدمات کے تمام پہلوؤں سے متعلق رپورٹ طلب کر لی گئی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم دیا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ خاتون اور اس کے تین کمسن بچوں کے اغواء کے مقدمے کو ایک مثالی کیس بنائیں۔تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ایک خاتون اور اس کی تین کم سن بیٹیوں کو صوبائی دارالحکومت لاہور سے اغوا کیا گیا، لاہور پولیس کو اس واقع کی کوئی اطلاع دی گئی نہ ہی یہ معاملہ اسے رپورٹ کیا گیا، وفاقی سیکرٹری داخلہ آئی جی پنجاب و سیکرٹری داخلہ پنجاب اور حکومتِ پنجاب کو مناسب ہدایات جاری کریں۔عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب حکومت اپنے طور پر ایک انکوائری کا آغاز کرے، 17 ستمبر 2025 کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری کریں، جس سی سی ٹی وی میں خاتون ثنا اور اس کے تین کم سن بچوں کو لاہور میں اغوا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 20 نومبر تک رپورٹ طلب کرلی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیکرٹری داخلہ اسلام ا باد خاتون اور کے اغوا حکم دیا ا ئی اے اور اس
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔