فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی کارروائی، متعدد زخمی اور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ مغربی کنارے: اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بڑی گرفتاری مہم شروع کی جبکہ غیر قانونی یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں اور غیر ملکی انسانی حقوق کارکنوں پر حملے کیے ۔
ذرائع کے مطابق جیرِکو کے علاقے این عد دُیوک میں تین اطالوی اور ایک کینیڈی شہری کارکن غیر قانونی آبادکاروں کے حملے میں زخمی ہوئے۔ تین کارکنوں کی حالت معتدل ہے جبکہ ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ آبادکاروں نے چند دنوں سے فلسطینی رہائشیوں کے ساتھ رہنے والے غیر ملکی کارکنوں کے گھر پر حملہ کیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے پاسپورٹ، فون اور دیگر سامان چرانے کی کوشش کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر قانونی آبادکاروں نے مرکزی مغربی کنارے کے علاقے سلفیت میں چار فلسطینی گاڑیاں تباہ کر دیں، اسی طرح نابلُس کے علاقے الماسعودیہ میں بھی آبادکاروں نے فلسطینی املاک کو نقصان پہنچایا۔
کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے مطابق صرف اکتوبر میں غیر قانونی آبادکاروں نے اسرائیلی فورسز کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر 766 حملے کیے۔
مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں میں اب تک 1,085 فلسطینی ہلاک اور 10,700 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 20,500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ جولائی میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تمام آبادکاریوں کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غیر قانونی آبادکاروں آبادکاروں نے
پڑھیں:
دمشق پر اسرائیلی حملوں میں 10 شامی شہری جاں بحق، متعدد فوجی زخمی
دمشق کے مضافات میں اسرائیلی فوج نے فضائیہ اور توپ خانے کے ذریعے ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 10 شامی شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
حملہ دارالحکومت کے قریب واقع قصبے بیت جن میں کیا گیا جہاں اسرائیلی فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
شامی میڈیا کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوجی دستہ تین افراد کی گرفتاری کے بعد علاقے میں تعینات ہوا۔ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے نے مسلسل بمباری کی، جس کے بعد مقامی لوگ قریبی دیہات کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کا ہدف وہ مطلوب افراد تھے جو مبینہ طور پر اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
فوج کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں چھ اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے، جن میں دو افسران کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
رواں سال 2025 میں اسرائیل کی جانب سے شام میں متعدد حملے کیے جا چکے ہیں، جن کے بارے میں اسرائیلی مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں سرحدی خطرات روکنے کے لیے کی جاتی ہیں، جبکہ شامی حکومت انہیں براہِ راست جارحیت قرار دیتی ہے۔