سعودی عرب، ایران اور چین کا بیجنگ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
سعودی عرب، ایران اور چین نے منگل کے روز تہران میں ہونے والے اجلاس کے دوران بیجنگ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کردی
بیجنگ معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے سعودی چینی ایرانی مشترکہ سہ فریقی کمیٹی کے تیسرے اجلاس کی صدارت ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی نے کی جبکہ سعودی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی اور چینی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ میاؤ دی یُو نے کی۔
سعودی اور ایرانی وفود نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ بیجنگ معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے چارٹر، اسلامی تعاون تنظیم کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی پابندی پر زور دیا گیا۔
سعودی عرب اور ایران نے معاہدے کے نفاذ میں چین کے تعمیری کردار اور مسلسل تعاون کا خیرمقدم کیا۔ چین نے بھی ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، خطے میں امن و استحکام پر گفتگو
تینوں ممالک نے سعودی۔ایران تعلقات میں بتدریج پیش؎رفت اور اس سے پیدا ہونے والے وسیع مواقع کا اعتراف کیا۔
اجلاس میں قونصلر خدمات میں ہونے والی پیشرفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا جس کے باعث سنہ 2025 میں 85,000 سے زائد ایرانی عازمین نے حج اور 210,000 سے زائد افراد نے عمرہ انتہائی سہولت اور تحفظ کے ساتھ ادا کیا۔
تینوں ممالک نے اقتصادی اور سیاسی شعبوں سمیت مختلف میدانوں میں تعاون کو وسعت دینے کے ارادے کا اظہار کیا اور زور دیا کہ علاقائی مکالمہ اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: قطر پر اسرائیلی حملہ: پاکستان، سعودی عرب اور ایران کی شدید مذمت
اجلاس میں فلسطین، لبنان اور شام میں اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا اور ایران کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کی مذمت کی گئی۔
ایران نے اس حوالے سے سعودی عرب اور چین کے واضح مؤقف کو سراہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران بیجنگ معاہدہ سعودی عرب سعودی عرب اور ایران معاہدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران بیجنگ معاہدہ سعودی عرب اور ایران معاہدہ بیجنگ معاہدے پر سعودی عرب اور اور ایران اور چین کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔