’وندے ماترم‘ کے الفاظ اسلامی عقائد سے متصادم ہیں، مولانا ارشد مدنی کا دوٹوک اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
جمعیت علمائے ہند (الف) کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین، مولانا ارشد مدنی نے ’وندے ماترم‘ (Vande Mataram) کے نعرے اور گیت کو مسلمانوں کے بنیادی مذہبی عقائد اور ایمان کے خلاف قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس عبادت میں کسی کو شریک نہیں کر سکتے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک تفصیلی بیان میں، مولانا مدنی نے واضح کیا کہ انہیں کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے ’وندے ماترم‘ پڑھنے یا گانے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن مسلمانوں کے لیے اس میں شامل الفاظ شرعی طور پر ناقابل قبول ہیں۔
’درگا ماتا‘ سے تشبیہ، عبادت کے الفاظ استعمال کیے گئےمولانا ارشد مدنی نے نشاندہی کی کہ اس نظم کے الفاظ، بالخصوص چار اشعار، ’شرکیہ عقائد و افکار‘ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اشعار میں وطن کو براہِ راست ‘درگا ماتا’ (ہندو دیوی) سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس کی عبادت کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو کسی بھی مسلمان کے بنیادی عقیدے ’توحید‘ کے منافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں ’وندے ماترم‘ تقریبات کے حکومتی حکم پر متحدہ مجلس علما کا اعتراض
انہوں نے نظم کا ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ’وندے ماترم نظم کا پورا مطلب ہے ‘ماں! میں تیری پوجا کرتا ہوں، ماں! میں تمہاری عبادت کرتا ہوں’۔ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نظم ہندو دیوی ماتا درگا کی تعریف میں لکھی گئی ہے نہ کہ مادر وطن کے لیے۔‘
آئین ہند مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہےمولانا مدنی نے بھارتی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے اور جذبات کے خلاف کسی نعرے، گیت یا نظریے کو اپنانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے وطن سے محبت اور عبادت کے درمیان فرق واضح کیا اور کہا کہ ملک سے محبت ایک الگ چیز ہے اور اس کی پوجا یا عبادت دوسری چیز۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں مسلمانوں سے بدترین امتیازی سلوک پر مولانا ارشد مدنی کے انکشافات، بی جے پی تلملا اٹھی
انہوں نے زور دیا کہ بھارت کے مسلمانوں کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے کسی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
جمعیت علمائے ہند کا یہ مؤقف بھارت میں مذہبی آزادی اور قومی علامتوں کے استعمال پر جاری بحث میں ایک نیا پہلو اجاگر کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مولانا ارشد مدنی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مولانا ارشد مدنی مولانا ارشد مدنی وندے ماترم انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔