خواتین پر تشدد کیخلاف عالمی اتحاد ’’آل اِن‘‘ قائم
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اگر خواتین سڑکوں پر محفوظ نہیں تو وہ روزگار کے حصول کے لیے گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں اور اگر وہ گھر پر تشدد سے محفوظ نہیں تو وہ اپنے خاندان کے لیے نئے مواقع تلاش نہیں کر سکیں گی۔
ایویٹ کوپر نے کہا کہ اس سلسلے میں What Works to Prevent Violence نامی تنظیم کام کر رہی ہے، اس تنظیم کی تحقیق سے پاکستان میں ایک صوبے کے 160 اسکولوں میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
انھوں نے یہ باتیں خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے عالمی اتحاد کے قیام کی تقریب سے لندن میں خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
خواتین پر تشدد کے خلاف آل اِن نامی ایک عالمی اتحاد تشکیل دیا گیا ہے جس کے بنیاد گزاروں میں برطانیہ، فورڈ فاؤنڈیشن اور Wellspring فاؤنڈیشن شامل ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کو کبھی معمول کا حصہ نہیں سمجھا جانا چاہیے کیوں کہ یہ تشدد نہ صرف ان کی زندگیوں کو بلکہ خاندانی نظام کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے جس سے مردوں اور لڑکوں کی زندگی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تنازعات اور جنگوں کے دوران خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے مزید یہ کہ نئی ٹیکنالوجی کو خواتین پر تشدد اور ہراسانی کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں پچھلے سال ہر آٹھ میں سے ایک عورت کو گھر میں تشدد یا جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔