کھلی کچہری میں تاجر رہنما محمود علی راجپوت پر تشدد کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدر آباد(اسٹاف رپورٹر) انجمن تاجران ریشم بازار کے صدر آصف میمن کونچ والا ، جنرل سیکرٹری ایوب شیخ و دیگر عہدیداران و اراکین مجلس عاملہ نے اپنے بیان میں صوبائی وزیر عذرا پیچوہو کی جانب سے عوامی مسائل کے تدارک کیلےے منعقدہ کھلی کچہری میں بد نظمی و بد انتظامی پر
تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ک اس طرح کی کھلی کچہریاں مسائل کے سدباب کے بجائے نفرتوں کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں جہاں پسند نہ پسند کی بنیاد پر لوگوں کا سوال و جواب کیلےے چناﺅ کیا جائے یا پھر کسی کی جانب سے سوال پر اس کوہراساں کیا جائے جیسا کہ آج کی کھلی کچہری میں اک معروف تاجر رہنما محمود علی راجپوت کیساتھ کیا گیا اس سے ثابت ہوگیا کہ حکومت اس تاریخی شہر کے مسائل کے حل کیلےے کسی بھی فورم پر سنجیدہ نہیں ۔صدر آصف میمن کونچ والا نے پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بدسلوکی پر کھلی کچہری کی انتظامیہ اور مہمان وزیر سے جواب طلبی کرے اور ذمے دار افراد کے خلاف کارروائی کرےں کیونکہ ملک کی معیشت کو چلانے والے تاجر اپنی عزت و وقار پرکوئی سودے بازی نہیں کرینگے اور یکجا ہیں اس لئے ہم تاجر رہنما پر تشدد کو خود پر تشدد تصور کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس معاملے پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری خود نوٹس لیکر ذمے داروں کو سزا دلائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھلی کچہری
پڑھیں:
کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔