فلائٹ کینسل ہوگئی، نئے شادی شدہ جوڑے کی اپنے ہی ریسیپشن میں آن لائن شرکت
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
بھارتی ایئرلائن انڈیگو کی سیکڑوں پراوزیں معطل ہونے کی وجہ سے ایک نئے شادی شدہ جوڑے کے ریسیپشن کی تقریب ایک منفرد اور غیر معمولی صورت اختیار کرگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی جوڑے کپل اور نیکیتا کی شادی کی تقریب دہلی میں طے تھی۔ تاہم، بدقسمتی سے ان کی دہلی جانے والی انڈیگو کی پرواز اچانک منسوخ ہو گئی۔
اس پر جوڑے نے اپنی شادی کی تقریب میں طبعی طور پر شامل نہ ہوپانے پر ایک منفرد انداز اپنایا اور آن لائن ریسیپشن کا انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا۔
ٹیک کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کپل اور نیکیتا نے اس غیر متوقع صورتحال میں جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھایا اور اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کو ویڈیو کال کے ذریعے شادی کی خوشیوں میں شریک کر لیا۔
ان کے لیے یہ ایک نئی نوعیت کا تجربہ تھا، کیونکہ وہ اپنی ہی شادی کی تقریب میں غیر موجودگی کے باوجود اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ خوشیاں بانٹ رہے تھے۔
A newly married techie couple had to attend their own reception online after their IndiGo flight from Bhubaneswar to Hubballi was cancelled.
Couple joined the event through a live video ???? pic.twitter.com/ontAc0DhZR https://t.co/1GdbaZL5Nz — News Algebra (@NewsAlgebraIND) December 5, 2025
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی، نامساعد حالات میں بھی لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹنے کے نئے راستے کھول دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔