موت قبول مگروندے ماترم نہیں پڑھیں گے،جمعیت علمائے ہند
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
نئی دہلی: بھارتی پارلیمنٹ میں وندے ماترم پربحث کے پس منظرمیں صدرجمعیت علماءہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں کسی کے وندے ماترم پڑھنے اورگانے پراعتراض نہیں مگرہم یہ بات ایک بارپھرواضح کردینا چاہتے ہیں کہ مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اوراپنی اس عبادت میں کسی دوسرے کوشریک نہیں کرسکتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وندے ماترم نظم کے مشمولات شرکیہ عقائد وافکارپرمبنی ہیں، بالخصوص اس کے چاراشعارمیں واضح طورپر وطن کو برادر وطن کے معبود ’درگاماتا‘ سے تشبیہ دے کراس کی عبادت کےلیے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جوکسی بھی مسلمان کے بنیادی عقیدے اورایمان کے خلاف ہے۔
ہندوستان کا دستورہرشہری کومذہبی آزادی (دفعہ (25) اوراظہاررائے کی آزادی (دفعہ 19) فراہم کرتا ہے۔
ان دفعات کے تحت کسی بھی شہری کواس کے مذہبی عقیدے اورجذبات کے خلاف کسی نعرے، گیت یا نظریے کواپنانے پرمجبورنہیں کیا جاسکتا۔
مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی شہری کوقومی ترانہ یا کوئی ایسا گیت گانے پرمجبورنہیں کیا جاسکتا، جو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہو۔
انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت الگ چیز ہے اوراس کی عبادت دوسری چیز۔ مسلمانوں کواس ملک سے کتنی محبت ہے اس کے لیے ان کو کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ حب الوطنی کا تعلق دلوں کی وفاداری اورعمل سے ہے، نعرے بازی سے نہیں۔
انہوں نے وندے ماترم کے تناظرمیں کہا کہ تاریخی ریکارڈ بالکل واضح ہے کہ 26 اکتوبر1937 کورابندرناتھ ٹیگورنے پنڈت جواہرلال نہروکوایک خط میں مشورہ دیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دوبندوں کوقومی گیت کے طورپرقبول کیا جائے، کیونکہ بقیہ اشعارتوحید پرست مذاہب کے عقائد سے متصادم ہیں۔
یہی بنیاد تھی جس پرکانگریس ورکنگ کمیٹی نے 29 اکتوبر 1937 کوفیصلہ کیا کہ صرف دوبندوں کوقومی گیت کے طورپرمنظورکیا جائے۔
اس لیے آج ٹیگورکے نام کا غلط استعمال کرکے جبراً اس نظم کومسلط کرنے یا اس کے مکمل گانے کی بات کرنا نہ صرف تاریخی حقائق کوجھٹلانے کی کوشش ہے بلکہ ملکی وحدت کے تصورکی توہین اورگروجی ٹیگورکی تحقیربھی ہے۔
یہ بھی قابل افسوس ہے کہ لوگ اس کوتقسیم ہند سے جوڑتے ہیں جبکہ رابندرناتھ ٹیگورکا مشورہ قومی وحدت کے لیے تھا۔
مولانا ارشد مدنی نے زوردیا کہ وندے ماترم سے متعلق بحث دراصل مذہبی عقائد کے احترام اورآئینی آزادی کے دائرے میں ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی الزام تراشی کے اندازمیں۔
جمعیت علماءہند تمام قومی رہنماو ¿ں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایسے حساس مذہبی تاریخی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ ملک میں باہمی احترام، رواداری اور اتحاد کو فروغ دینے کی اپنی آئینی ذمہ داری پر کار بند رہیں۔
”وندے ماترم“ بنکم چندرچٹرجی کے ناول”آنند مٹھ“ سے ایک اقتباس ہے۔ اس کی کئی سطریں اسلام کے مذہبی اصولوں کے خلاف ہیں، اسی لیے مسلمان اس گانے کو گانے سے گریزکرتے ہیں۔ “وندے ماترم” گانے کا پورا مطلب ہے “ماں، میں تیری پوجا کرتا ہوں۔ ماں، میں تمہاری عبادت کرتا ہوں۔
یہ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ گانا ہندو دیوی ماتا درگا کی تعریف میں گایا گیا ہے، نہ کہ مادر وطن ہندوستان کے لیے۔وندے ماترم درگا کی تعریف میں لکھا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام توحید پرمبنی ایک مذہب ہے، جوایک ایسے اللہ، اوم اورایشورکی عبادت کرتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہنے والا ہے اورہرچیزپراس کوقدرت ہے۔
کسی ملک یا ماں کی پوجا کرنا اس توحیدی اصول سے متصادم ہے۔وندے ماترم گانا ماں کے سامنے جھکنے اوراس کی پوجا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ اسلام اللہ کے علاوہ کسی کے آگے سرجھکانے اورکسی کی عبادت کرنے سے منع کرتا ہے۔
ہم ایک خدا کے ماننے والے ہیں، ہم خدا کے علاوہ کسی کونہ اپنا معبود مانتے ہیں اورنہ ہی کسی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، اس لیے اس کوہم کسی حال میں بھی قبول نہیں کرسکتے۔ مر جانا توقبول ہے، لیکن شرک کرنا قبول نہیں ہے۔ مریں گے تواسلام پراورجییں گے تواسلام پر۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل وندے ماترم انہوں نے کی عبادت کرتا ہے کے خلاف کسی کے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل