سلمان آغا کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک کپتان برقرار رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کی قیادت نے تھنک ٹینک کو متاثر کر دیا ہے اور امکان ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک یہ ذمہ داری برقرار رکھیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کو ٹیم میں پیدا ہونے والی فائٹنگ اسپرٹ نے سب سے زیادہ متاثر کیا، ان کے مطابق کھلاڑی اب ایک یونٹ بن کر کھیل رہے ہیں، جو ماضی میں کمی محسوس ہوتی تھی۔
ادھر سری لنکا کے دورے کے لیے اسکواڈ میں شاداب خان کی واپسی کا امکان ہے۔ وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھرپور ٹریننگ کر رہے ہیں جبکہ بگ بیش لیگ میں ان کی میچ فٹنس کا جائزہ لیا جائے گا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں ہوگا۔ اس وقت ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا سنبھال رہے ہیں۔ کچھ حلقے شاداب خان کی دوبارہ بطور کپتان واپسی یا شاہین شاہ آفریدی کو ذمہ داری دینے کی بات بھی کر رہے تھے۔
تاہم رابطہ کرنے پر پی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا کہ میگا ایونٹ میں قیادت سلمان علی آغا کے پاس ہی رہنے کا امکان زیادہ ہے۔ تھنک ٹینک کے ایک اور رکن نے بھی کہا کہ سلمان نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ٹیم کو دوبارہ جیت کی راہ پر ڈال دیا ہے، ٹیم میں فائٹنگ اسپرٹ واپس آ گئی ہے اور کھلاڑی یکجا ہو کر جیت کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ اسی لیے کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے فیفا فٹبال ورلڈکپ(FIFA World Cup) 2026 کا آغاز 12 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہوگا۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈکپ میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث ٹورنامنٹ پہلے سے زیادہ طویل، دلچسپ اور غیر متوقع نتائج کا حامل ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق اس بار 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو اسے فیفا ورلڈکپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن بنا دیتے ہیں۔
نئے فارمیٹ کے تحت ہر گروپ سے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہ راست ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچیں گی۔ اس بار پہلی مرتبہ راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد مقابلہ مزید سخت ہوتا جائے گا۔
ٹورنامنٹ میں دنیا کی بڑی فٹبال ٹیمیں ایک بار پھر ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی، تاہم ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث کسی بھی واضح فیورٹ کا تعین کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں اوپٹا سپر کمپیوٹر نے جدید ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کے ذریعے ورلڈکپ کی پیشگوئی کی ہے۔ یہ ماڈل ہزاروں بار ٹورنامنٹ کے ممکنہ نتائج کو ڈیجیٹل طور پر سمولیٹ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے اور ہر ٹیم کے جیتنے، فائنل تک پہنچنے اور ناک آؤٹ مرحلے میں کارکردگی کے امکانات کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
سپر کمپیوٹر کے مطابق اس بار فیورٹ ٹیموں میں اسپین سب سے آگے ہے، جس کے ورلڈکپ جیتنے کے امکانات 16.1 فیصد بتائے گئے ہیں۔ اس کے بعد فرانس کو 13 فیصد، انگلینڈ کو 11.2 فیصد اور ارجنٹینا کو 10.4 فیصد کے ساتھ ممکنہ ٹاپ امیدواروں میں شامل کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ چاروں ٹیمیں وہ ہیں جن کے امکانات دیگر ٹیموں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ تاہم ماڈل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسپین کے لیے ٹائٹل جیتنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان بھی 52 فیصد سے زیادہ بتایا گیا ہے۔
تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپین کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کی صورت میں سیمی فائنل تک رسائی کا امکان تقریباً 39 فیصد اور فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہے، جو اسے ایک مضبوط مگر غیر یقینی پوزیشن میں رکھتا ہے۔
48 ٹیموں کی شمولیت نے ورلڈکپ کو مزید غیر متوقع بنا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے اپ سیٹ کا امکان پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور یہی اس ٹورنامنٹ کو خاص اور دلچسپ بناتا ہے۔