Jasarat News:
2026-07-24@16:02:51 GMT

مرجائیں گے مگر وندے ماترم نہیں پڑھیں گے،جمعیت علمائے ہند

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

مرجائیں گے مگر وندے ماترم نہیں پڑھیں گے،جمعیت علمائے ہند

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی: بھارتی پارلیمنٹ میں وندے ماترم پربحث کے پس منظرمیں صدرجمعیت علماءہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں کسی کے وندے ماترم پڑھنے اورگانے پراعتراض نہیں مگرہم یہ بات ایک بارپھرواضح کردینا چاہتے ہیں کہ مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اوراپنی اس عبادت میں کسی دوسرے کوشریک نہیں کرسکتا۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ وندے ماترم نظم کے مشمولات شرکیہ عقائد وافکارپرمبنی ہیں، بالخصوص اس کے چاراشعارمیں واضح طورپر وطن کو برادر وطن کے معبود ’درگاماتا‘ سے تشبیہ دے کراس کی عبادت کےلیے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جوکسی بھی مسلمان کے بنیادی عقیدے اورایمان کے خلاف ہے۔

 ہندوستان کا دستورہرشہری کومذہبی آزادی (دفعہ (25) اوراظہاررائے کی آزادی (دفعہ 19) فراہم کرتا ہے۔

ان دفعات کے تحت کسی بھی شہری کواس کے مذہبی عقیدے اورجذبات کے خلاف کسی نعرے، گیت یا نظریے کواپنانے پرمجبورنہیں کیا جاسکتا۔

مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی شہری کوقومی ترانہ یا کوئی ایسا گیت گانے پرمجبورنہیں کیا جاسکتا، جو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہو۔

انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت الگ چیز ہے اوراس کی عبادت دوسری چیز۔ مسلمانوں کواس ملک سے کتنی محبت ہے اس کے لیے ان کو کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

 ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ حب الوطنی کا تعلق دلوں کی وفاداری اورعمل سے ہے، نعرے بازی سے نہیں۔

انہوں نے وندے ماترم کے تناظرمیں کہا کہ تاریخی ریکارڈ بالکل واضح ہے کہ 26 اکتوبر1937 کورابندرناتھ ٹیگورنے پنڈت جواہرلال نہروکوایک خط میں مشورہ دیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دوبندوں کوقومی گیت کے طورپرقبول کیا جائے، کیونکہ بقیہ اشعارتوحید پرست مذاہب کے عقائد سے متصادم ہیں۔

یہی بنیاد تھی جس پرکانگریس ورکنگ کمیٹی نے 29 اکتوبر 1937 کوفیصلہ کیا کہ صرف دوبندوں کوقومی گیت کے طورپرمنظورکیا جائے۔

اس لیے آج ٹیگورکے نام کا غلط استعمال کرکے جبراً اس نظم کومسلط کرنے یا اس کے مکمل گانے کی بات کرنا نہ صرف تاریخی حقائق کوجھٹلانے کی کوشش ہے بلکہ ملکی وحدت کے تصورکی توہین اورگروجی ٹیگورکی تحقیربھی ہے۔

 یہ بھی قابل افسوس ہے کہ لوگ اس کوتقسیم ہند سے جوڑتے ہیں جبکہ رابندرناتھ ٹیگورکا مشورہ قومی وحدت کے لیے تھا۔

مولانا ارشد مدنی نے زوردیا کہ وندے ماترم سے متعلق بحث دراصل مذہبی عقائد کے احترام اورآئینی آزادی کے دائرے میں ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی الزام تراشی کے اندازمیں۔

جمعیت علماءہند تمام قومی رہنماو ¿ں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایسے حساس مذہبی تاریخی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ ملک میں باہمی احترام، رواداری اور اتحاد کو فروغ دینے کی اپنی آئینی ذمہ داری پر کار بند رہیں۔

”وندے ماترم“ بنکم چندرچٹرجی کے ناول”آنند مٹھ“ سے ایک اقتباس ہے۔ اس کی کئی سطریں اسلام کے مذہبی اصولوں کے خلاف ہیں، اسی لیے مسلمان اس گانے کو گانے سے گریزکرتے ہیں۔ “وندے ماترم” گانے کا پورا مطلب ہے “ماں، میں تیری پوجا کرتا ہوں۔ ماں، میں تمہاری عبادت کرتا ہوں۔

 یہ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ گانا ہندو دیوی ماتا درگا کی تعریف میں گایا گیا ہے، نہ کہ مادر وطن ہندوستان کے لیے۔وندے ماترم درگا کی تعریف میں لکھا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام توحید پرمبنی ایک مذہب ہے، جوایک ایسے اللہ، اوم اورایشورکی عبادت کرتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہنے والا ہے اورہرچیزپراس کوقدرت ہے۔

کسی ملک یا ماں کی پوجا کرنا اس توحیدی اصول سے متصادم ہے۔وندے ماترم گانا ماں کے سامنے جھکنے اوراس کی پوجا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ اسلام اللہ کے علاوہ کسی کے آگے سرجھکانے اورکسی کی عبادت کرنے سے منع کرتا ہے۔

ہم ایک خدا کے ماننے والے ہیں، ہم خدا کے علاوہ کسی کونہ اپنا معبود مانتے ہیں اورنہ ہی کسی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، اس لیے اس کوہم کسی حال میں بھی قبول نہیں کرسکتے۔ مر جانا توقبول ہے، لیکن شرک کرنا قبول نہیں ہے۔ مریں گے تواسلام پراورجییں گے تواسلام پر۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وندے ماترم کی عبادت انہوں نے کرتا ہے کے خلاف کہا کہ کسی کے کے لیے

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت